حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 299
حقائق الفرقان ۲۹۹ سُورَةُ الْبَقَرَة ہے کہ دنیا میں جس قدر مرکز ہدایت کے ہیں وہ دراصل صرف دو ہیں ایک آتشکده آذر اور دوم بیت المقدس ۔ ان دونوں کا اثر عرب پر بالکل نہیں پڑا مگر ہمارے سردار نے عرب والوں کو اپنا دین منوالیا اور پھر ان کے ذریعہ ان دونوں مرکزوں ( بیت المقدس، آتشکده آذری) پر بھی فتح پائی۔ مَا نَنْسَخُ مِنْ آيَةٍ أَوْ تُنْسِهَا ـ نسخ کے معنے ہیں نقل کے۔ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (الجاثية: ۳۰) اور نسخ کے معنے ہیں مٹا دینے کے جیسے فرمایا إِذَا تَمَلَى الْقَى الشَّيْطَنُ في أَمْنِيَّتِهِ ۚ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللهُ أَيْته (الحج: ۵۳) نُفْسِهَا نکلا ہے نسیان سے۔ اس صورت میں اس کے معنے ہیں ہم بھلا دیتے ہیں یا نسأ بمعنی تاخیر ہے۔ اس صورت میں اس کے معنے ہیں ہم مؤخر کر دیتے ہیں ۔“ سو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ہم کسی چیز کو بدلا تے یا مٹاتے ہیں یا بالکل بھلاتے اور کسی دوسرے سے تاخیر میں ڈال دیتے ہیں تو اس میں ہمارے مصالح ہوتے ہیں۔ اس کی مثال سنئے ! قرآن مجید میں ایک تعلیم ہے یايُّهَا الْمُدَّثِرُ قُمْ فَأَنْذِرُ وَ رَبَّكَ فَكَبِرُ ۔ (المدثر: ۲ تا ۴) اور پھر اخیر میں کھانے پینے کے احکام نازل فرمائے اور ارشاد کیا الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدة : ۴) تو اب پہلی تعلیم کو جو مقدم کیا اور دوسری کو مؤخرتو خاص مصلحت سے ہے ( یعنی پہلے عقیدہ درست ہو جاوے پھر شریعت نازل ہو ) ۔ ا دوسری مثال یہ ہے کہ بعض مذاہب ایسے ہیں جو بالکل نسيا منسیا ہو گئے اور بعض ایسے جن کے اصول کچھ تو موجود ہیں مگر بہت کچھ تبدیل ہو گئے۔ پھر آیت کے معنے علاوہ کلام النبی کے مطلق نشان بھی ہیں مثلاً خزاں میں درختوں کے پتے مٹ اہم محفوظ رکھتے اور لکھاتے جاتے تھے جو تم کرتے تھے۔ (ناشر) ۲ اس نے جب کچھ آرزو کی تو شریر و بد کاراس کی خواہش میں روک ڈالنا چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ شیطان کی خواہش کو مٹا دیتا ہے اور باطل کر دیتا ہے اور پھر اپنی ہ آیتوں کو مضبوط کرتا ہے۔ (ناشر) سے اے خلعت نبوت پہننے والے (چادر پوش)۔ اٹھ اور لوگوں کو ڈرا ۔ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ (ناشر) ۴ آج میں نے کامل کر دیا تمہارے لئے دین۔ (ناشر)