حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 298
حقائق الفرقان تم انظرنا کہا کرو۔يَوَدُّ - يُحِبُّ ۲۹۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة مَا يَوَدُّ الَّذِينَ۔یہ منکر اہل کتاب چاہتے ہی نہیں کہ تم پر کوئی مکرم چیز اتاری جائے۔انظرنا۔آپ ہماری طرف توجہ فرماویں۔آپ ہم پر نظر عنایت فرماویں۔امنوا۔مسلمانوں کو روکا تو پھر یہودیوں کو بھی رُکنا پڑا۔حدیث میں ہے کہ عشاء کے واسطے عَتَمَہ کا لفظ نہ بولو کیونکہ یہ جنگلیوں کا لفظ ہے۔(البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۴ نومبر ۱۹۱۲، صفحه ۷۲) الَّذِينَ كَفَرُوا۔یہ کا فر دو قسم کے ہیں اہل کتاب (یہود، نصاری ، مجوس ) دوسرے وہ جن کے پاس کوئی کتاب نہیں۔سنی سنائی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔غرض یہ دونوں گروہ پسند نہیں کرتے کہ تم پر کوئی ایسا امرا تارا جائے جو خیر و برکت کا موجب ہو مگر اللہ تعالیٰ خصوصیت دے دیتا ہے اپنی رحمت سے جسے چاہے۔مکہ والوں نے کہا کہ عَلى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ (الزخرف:۳۲) مگران کا یہ اعتراض فضول تھا کیونکہ واقعات نے ثابت کر دیا کہ واقعی یہی مبارک وجود ( حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) اس رسالت کا مستحق تھا۔میرا اعتقاد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم انسانیت ہیں نہ ایسا کوئی عظیم الشان ہوا اور نہ ہو گا۔ایک شخص نے مجھے پوچھا کہ اس کی کیا دلیل ہے۔میں نے کہا کہ تم کسی اصل مذہبی کے قائل ہو یا نہیں۔کہا دعا کا قائل ہوں۔میں نے کہا۔دیکھو تم مانتے ہو کہ تمام مسلمان نماز پڑھتے ہیں اور زمین گول ہے۔پس رُوئے زمین پر کوئی ایسا وقت نہیں گزرتا جب کوئی مسلمان نماز نہ پڑھ رہا ہو اور نماز میں درود شریف نہ پڑھتا ہو۔پھر میں پوچھتا ہوں کیا دنیا میں کوئی ایسا پیشوا ہے جس کے مرید ہر وقت اس کے علو مدارج کے لئے دعا کر رہے ہوں اور پھر الدال على الخير كفاعله " کے مطابق وہ تمام نیکیاں جو یہ لوگ ( مسلمان ) کرتے ہیں حضور کے نامہ اعمال میں بھی لکھی جاتی ہوں گی یا نہیں؟ پھر فضائل نبوی میں دوسری بات مجھے یہ سوجھی لے بڑے آدمی پر دو بڑی بستیوں کے رہنے والوں سے۔( ناشر ) ۲ نیکی کی طرف راہنمائی کرنے والا نیکی بجالانے والے کی مانند ہے۔(ناشر)