حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 296
حقائق الفرقان ۲۹۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة یہ حسد بڑا خطرناک مرض ہے اس سے بچو۔اللہ تعالیٰ کے علیم وحکیم ہونے پر ایمان ہو تو یہ مرض جاتا رہتا ہے۔دیکھو لمل کا کپڑا ہے کوئی اسے سر پر باندھتا ہے۔کوئی اس کا قمیص بنا تا ہے۔کوئی زخموں کے لئے پٹی۔سب جگہ وہ کام دیتا ہے اور کبھی جگہ واقعہ میں اس کی ضرورت ہے۔اسی طرح اگر انسان سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ کے عجائبات قدرت سے جو کام ہو رہے ہیں وہ بلا ضرورت وحکمت کے نہیں تو معترض کیوں ہو؟ اگر خدا تعالیٰ نے ایک قوم کو اپنی رحمت خاصہ کے لئے چن لیا ہے تو یہ کیوں جلتے ہیں؟ یہ تو عام قانونِ قدرت ہے کہ آج ایک درخت بغیر پھول اور پھل پتوں کے بالکل سوختنی ہیئت میں کھڑا ہے۔اب بہار کا موسم آیا تو اس میں پتے لگنے شروع ہوئے پھر پھول پھر پھل۔اسی طرح قوموں کا نشو و نما ہے ایک وقت ایک قوم برگزیدہ ہوتی ہے لیکن جب وہ انعامات کے قابل نہیں رہتی تو خدا تعالیٰ دوسری قوم کو چن لیتا ہے اور وہ پہلی قوم ایسی مٹ جاتی ہے کہ بالکل بھلا دی جاتی ہے یا اس کی حالت تبدیل ہو جاتی ہے۔غرض اِس جہان میں اس طرح بہت تغیر ہوتے رہتے ہیں۔ایک شریعت دی جاتی ہے پھر اس کی بجائے دوسری۔اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم کوئی نشانِ قدرت نہیں بدلتے اور نہ اسے ترک کرتے ہیں مگر کہ اس کی مثل یا اس سے اچھا لاتے ہیں کیا تم کو یہ خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔اسی کا راج آسمانوں اور زمینوں میں ہے۔وہ حق و حکمت سے ایسی تبدیلیاں کرتا رہتا ہے۔اس پر کسی کا بس نہیں چلتا۔اس کے سوا کسی کو مددگار اور کارساز نہ پاؤ گے۔البدر جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخه ۱۱ار فروری ۱۹۰۹ صفحه ۲) لا تَقُولُوا رَاعِنَا - بعض لوگ شرارت کے طور پر ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو ذ و معنی ہوتے ہیں۔ہمارے ایک آشنا تھے۔ان کی ایک کتاب جو مناظرہ کے متعلق تھی پڑھی۔ایک جگہ یہ فقرہ لکھا تھا۔آپ ہر ایک صداقت کو ایک ہی کو لہو میں نہ پیٹر ہیں۔میں نے کہا کہ اس محاورہ کے استعمال کی کیا ضرورت تھی؟ کہنے لگے کہ مخاطب تیلی ہے یہ اس پر چوٹ کی ہے! پھر ایک جگہ دکھائی جہاں لکھا ہوا تھا کہ مٹ کا مٹ ہی بگڑا ہوا ہے اور بڑے فخر سے کہا کہ یہ شخص جس کے مقابلہ میں یہ تحریر ہے رنگ ریز ہے۔