حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 295
حقائق الفرقان ۲۹۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة (ایسے ہی بے جا ) سوالات کرو جیسا کہ اس سے پہلے موسیٰ سے سوالات کئے گئے اور جو شخص ایمان کو کفر سے بدلتا ہے وہ ضرور راہ راست سے بھٹک گیا ہے۔ان اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو یہی چاہتے ہیں کہ تم کو تمہارے ایمان لانے کے بعد پھر کا فر کر دیں اُس حسد کی وجہ سے جوان کی جانوں میں ہے حق بات ظاہر ہو جانے کے بعد ان کو ان کی حالت میں پڑے رہنے دو اور ان کی صحبت سے ہٹ جاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے امر کے ساتھ آ جائے گا ( یعنی خود پکڑلے گا سزا دے دے گا) بے شک اللہ ہر چاہے ہوئے پر قادر ہے۔اور تم درستی کے ساتھ نماز میں لگے رہو اور زکوۃ دیا کرو اور تم ہر ایک نیکی جو آگے بھیجتے جاتے ہو اپنے لئے اللہ کے پاس اسے پاؤ گے۔بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔تفسیر۔اللہ جل شانہ نے ان آیات میں چند باتیں بطور نصیحت فرمائی ہیں۔پہلی بات بہت سے لوگ جن کے دلوں میں کینہ اور عداوت ہوتی ہے تو اپنے حریف کو ایسے الفاظ سے مخاطب کرتے ہیں جس میں ایک پہلو بدی کا بھی ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ڈرپوک ہوتے ہیں کھل کر کسی کو برا نہیں کہہ سکتے۔راعنا ایک لفظ ہے جس کے کئی معنی ہیں۔یہ رعونت ، بڑائی ، خود پسندی، حماقت کے معنوں میں بھی آتا ہے اور اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ آپ ہماری رعایت کریں۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ سکھایا ہے کہ ایسا لفظ اپنے کلام میں اختیار نہ کرو جو ذو معنی ہو بلکہ ایسے موقع پر انظر ناکہا کرو۔اس میں بدی کا پہلو نہیں ہے۔ایک شخص نے مجھ سے اصلاح کا ثبوت قرآن مجید سے پوچھا میں نے یہی آیت پڑھ دی۔اللہ تعالیٰ یہ نصیحت فرما کر متنبہ کرتا ہے کہ جو لوگ انکار پر کمر باندھے ہیں اور حق کا مقابلہ کرتے ہیں وہ دکھ درد میں مبتلا رہتے ہیں۔اس کے آگے عام کافروں کا رویہ بتایا ہے کہ یہ اہلِ کتاب اور مشرکین تمہارے کسی سکھ کو محض از روئے حسد دیکھ نہیں سکتے۔اس حسد سے ان کو کچھ فائدہ سوا اس کے کہ جل جل کر کباب ہوتے رہیں نہیں پہنچ سکتا۔