حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 20 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 20

حقائق الفرقان ۲۰ سُوْرَةُ الْفَاتِحَة اسلام کے وقت کا مالک خدا ہے وہ اس کی آپ حفاظت اور نصرت کرے گا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ فروری ۱۹۰۹ صفحه (۲) یوم کا لفظ عربی زبان میں وسیع معنے رکھتا ہے منجملہ ان معنے کے یوم کے معنی وقت ہے۔ ول سُنو ! محاوره عرب يَوْمَ وُلِدَ لِلْمَلِكِ وَلَدٌ يَكُونُ سُرُورٌ عَظِيمٌ وَيَوْمَ مَاتَ فُلَانٌ بَكَتْ عَلَيْهِ الْفِرَقُ الْمُخْتَلِفَةُ حالانکہ لڑکے کا پیدا ہونا اور آدمی کا مرنا کبھی دن کو ہوتا ہے اور کبھی رات کو۔ پس ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے معنے ہوئے ۔ مالک ہے وقتِ جزا کا ۔ ہر روز جس وقت کسی کو اپنے اعمال نیک کے بدلے انعام اور بد اعمال کے بدلے سزا ملتی ہے اس وقت کا مالک باری تعالیٰ ہے بلکہ یوم اتنے وقت کو کہتے ہیں کہ جس میں کوئی واقعہ گزرا ہو ۔ دیکھو یوم بعاث ۔ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيْمِ الله ابراهیم : (۶) ۔ ہمارے ملک میں دن ٹھیک ترجمہ یوم کا ہے۔ لوگ کہتے ہیں آج فلاں شخص کے دن اچھے آئے ہیں اور فلاں شخص کے بڑے آئے ہیں ۔ پس یوم کا ترجمہ دن بھی کریں تو کوئی عیب نہیں ۔ تصدیق براہین احمد براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۵۵) بجائے لفظ وقت اور حین کے قرآن نے یوم کا لفظ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ میں کیوں اختیار کیا ؟ سو گزارش ہے کہ عرب لوگ کبھی رات کی طرف ان امور کو نسبت کرتے ہیں جن میں نقص اور عیب ہوتا ہے۔ دیکھو شعر حماسہ کا۔ لَادَتْ هُنَالِكَ بِالْأَشْعَافِ عَالِمَةً أَنْ قَدْ أَطَاعَتْ بِلَيْلٍ أَمْرٍ غَادِيهَا " اگر چه بعض اوقات کسی خاص مصلحت کے واسطے لیل کی طرف بھی بعض امور کو منسوب کرتے ہیں مگر وہاں لیل کو خاص صفت سے موصوف کر لیتے ہیں یا اُسے مُعرف باللام بنا لیتے ہیں جیسے انا ے جس وقت بادشاہ کے بیٹا پیدا ہو گا۔ عظیم خوشی ہوگی ۔ اور جس وقت فلاں فوت ہوگا۔ مختلف متعدد جماعتیں اس پر روئیں گی۔ (ناشر) ۲ اور اُن کو یاد دلا ان کے دن (یعنی انعام اور انتقام کا زمانہ ) ۔ ( ناشر ) سے تو انہوں نے اسی وقت پہاڑوں کی چوٹیوں پر یہ جان کر پناہ لی کہ انہوں نے اپنے غلط کار اور گمراہ سردار کی اطاعت کی ہے اور جن کی مخالفت نہیں کرنا چاہیے تھی ان کی مخالفت کر کے بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔