حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 289
حقائق الفرقان ۲۸۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة وَمَارُوتَ فرشتوں کے نام۔ان کے ذریعے علم پا کر یہود نے دشمنوں پر فتح حاصل کر لی۔ان کو بتایا گیا اب تم محمد رسول اللہ کے مقابلہ میں ان ہتھیاروں سے کام نہیں لے سکتے کیونکہ الہی حکم سے یہ خفیہ کمیٹی نہیں۔بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوجِه - آجکل بھی فری میسن عورتوں کو شامل نہیں کرتے۔وَمَا هُمُ بضارين اس کی تشریح اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِيْنَ نُهُوا عَنِ النَّجوى (المجادلة:1) میں پڑھو اس میں لَيْسَ بِضَارِهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ بھی ہے۔تشویذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۳۹،۴۳۸) ہمارے ایک بہت پیارے کے والد فری میسن تھے۔میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی کمیٹی کب سے ہے۔کہا حضرت سلیمان کے وقت سے۔میں نے کہا پھر کب سے۔کہا بابل کے وقت سے۔پھر میں نے پوچھا کہ قانون کے ذریعہ سے جس شخص کو نہ مارسکو کیا اس کے ذریعہ سے قتل کر سکتے ہو۔کہا کہ اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔پھر میں نے چند اور سوالات کئے جن کے ذریعہ سے معلوم ہوا کہ مار ڈالتے ہیں۔عورت فری میسن نہیں بن سکتی۔ان کے چند اشارات ہوتے ہیں اشاروں سے باتیں کرتے ہیں۔ایک اور فری میسن سے بھی باتیں ہوئیں۔پھر مجھ کو خدا تعالیٰ نے عالم رؤیا میں -- یہاں ایک شخص دکھایا کہ یہ فری میسنوں کی طرف سے خاص طور پر یہاں رہتا ہے۔یہ لوگ رات دن دشمنوں کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔مذہب سے انکو کوئی تعلق نہیں۔ان کی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت محمد صلعم اور حضرت ابو بکر و عمر نے ملک عرب میں سے اس کمیٹی کا نام ونشان تک اُڑا دیا اور پینتیس سال تک اس کا کوئی پتہ ونشان باقی نہ رہا اور آپ کے اصحاب میں سے کوئی اس کمیٹی میں قطعاً شریک نہ ہوا۔پھر جناب علی مرتضیٰ کے عہد میں انہوں نے سر نکالا۔البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۴ نومبر ۱۹۱۲ ، صفحہ ۷۱) بہت سے لوگ ہیں کہ جب فرشتوں کی تحریک ہوتی ہے تو وہ اس تحریک کو پیچھے ڈال دیتے ہیں اور اللہ کی پاک آیات کو واہیات بناتے ہیں۔بڑے تعجب کی بات ہے کہ جب قبض وغیرہ ہو تو انسان میکائیلی تحریکوں کے ماننے کو تیار ہو جاتا ہے مگر جب روحانی قبض ہو تو پھر کہتے ہیں کہ خیر۔اللہ غفور رحیم