حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 287
حقائق الفرقان ۲۸۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اور اپنے ساتھ اور لوگوں کو ملاتا ہے۔ہر وقت اس کو یہی دھت لگی رہتی ہے اور وہ اپنے دین سے بے خبر ہو جاتا ہے۔بنی اسرائیل جب قید تھے وہ زمانہ دانیال عزرا، حز قیل اور ارمیاہ وغیرھم انبیاء کا تھا۔جب یہ بابل میں گئے تو بابل والے آسودہ تھے اور آسودگی کی وجہ سے طرح طرح کے گندوں میں مبتلا۔دانیال باب درس ۱۶ اور ۱۲ باب ودرس میں شراب پینے کا ذکر ہے۔اللہ نے ہاروت ماروت دوفرشتے نازل کئے۔ہرت کہتے ہیں زمین کو صاف کرنے کو۔مرت کہتے ہیں نشیب و فراز دبا کر درخت گھاس کٹوا کر صاف میدان کر دینے کو۔ان فرشتوں کے ذریعے یسعیاہ کو آگاہ کیا کہ یہ لوگ خراب ہو گئے ہیں اس واسطے تم اور کسی سلطنت سے گانٹھو اور اس کے ذریعے سے ان کو ہلاک کر دو۔یہ علم ملائکہ کے ذریعے ان پر نازل ہوا چنانچہ مید و فارس کے بادشاہوں سے دوستی لگا کر بنی اسرائیل نے بابل والوں کو تباہ کر دیا۔بابل بڑا شہر تھا۔یہ بھاری آبادی تھی۔کوئی پہچان میل میں۔چونکہ بابل کی تباہی میں اللہ نے فارس کے بادشاہوں کے ذریعہ سے فضل کیا اس لئے بنی اسرائیل کے تعلقات فارس والوں سے قائم رہے۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ میں آئے تو یہودیوں نے چاہا کہ پھر فارس کے بادشاہ کے ذریعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی جماعت کا استیصال کریں چنانچہ فارس کے بادشاہ نے اپنے یمنی گورنر کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار بھی کرنا چاہا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان فرستادوں سے کہا کہ جس نے تمہیں میری گرفتاری کے لئے بھجوایا ہے اس کو میرے خدا نے اسی کے بیٹے کے ہاتھ سے ہلاک کروا دیا ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔لیکن چونکہ یہ ایک نبی کا مقابلہ تھا اس لئے اس میں ناکام رہے۔اللہ تعالیٰ ان آیات میں انہی واقعات کی طرف ایماء فرماتا ہے۔وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ۔پیچھے پڑے ہوئے ہیں اس کے جو ایک زمانہ میں دوفرشتوں پر نازل ہو ا تھا ( ان فرشتوں کا کام تھا کہ بابل کو ویران کر کے صاف کر دیں اسی واسطے ان کو ہاروت و ماروت کہا گیا ) اس وقت تو یہ کامیاب ہو گئے کیونکہ خدا کے منشاء کے ماتحت تھا مگر اب تو یہ کفر ہے کیونکہ ایک نبی کے مقابلہ میں ہے۔اس وقت تو ہم نے ان