حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 19
حقائق الفرقان ۱۹ سُوْرَةُ الْفَاتِحَة ۶۔رحمت ہوتی ہے ان پر اللہ کی۔ے۔اور آخر کار ہدایت یافتہ ہوکر ان کا خاتمہ بالخیر ہو جاتا ہے۔اب غور کرو ! جن مصائب کے وقت صبر کرنے والے انسان کو ان انعامات کا تصور آ جاوے جو اس کو اللہ کی طرف سے عطا ہونے کا وعدہ ہے تو بھلا پھر وہ مصیبت ، مصیبت رہ سکتی ہے اور غم ، غم رہتا ہے؟ ہر گز نہیں۔پس کیسا پاک کلمہ ہے الْحَمدُ للهِ اور کیسی پاک تعلیم ہے وہ جو مسلمانوں کو سکھائی گئی ہے۔یہ نہایت ہی لطیف نکتہ معرفت ہے اور دل کو موہ لینے والی بات۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف اسی آیت سے شروع ہوا ہے اور رسول اکرم صلعم کے تمام خطبات کا ابتدا الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۸ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ۳،۲) بھی اسی سے ہوا ہے۔رب۔کہتے ہیں پیدا کر کے کمال مطلوب تک پہنچانے والے کو۔رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۱۔جولائی ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۲) الْعَلَمِينَ۔جمع ہے عالم کی جو اسم آلہ ہے۔مايُعْلَمُ بِہ جس کے ذریعے سے علم آتا ہے۔۴۔مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔جزا اور سزا کے وقت کا مالک ہے۔(البدر جلد نمبر ۱۱ مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۸۷) لملك۔یعنی وہ اپنی مخلوق کے ساتھ مالکانہ سلوک کرتا ہے۔۔یوم الدین۔اہل عرب بُرے کاموں کو اور جن کاموں کے نتائج بد ہوں ان کو رات سے منسوب کیا کرتے ہیں اور اچھے کاموں پر یوم کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔چونکہ اللہ تعالیٰ کی جزا سزا میں نتائج بدنہیں ہیں لہذا یوم کا لفظ یہاں استعمال کیا۔(البدر جلد نمبر ۱۱ مورخه ۹/جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۸۷) یوم - وقت دین۔جزا سزا۔اسلام جزا سزا کے وقت کا مالک خدا ہے اسی کے حکم سے کسی کو جزا یا سزا مل سکتی ہے۔اب بھی اور آئندہ بھی ہے۔