حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 270 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 270

حقائق الفرقان ۲۷۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ٩٠ وَلَمَّا جَاءَهُمُ كِتَبٌ مِّنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقُ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَّا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَفِرِينَ - ترجمہ۔اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے (وہی) کتاب آئی جس سے ان کے پاس کی کتاب کی تصدیق ہوتی ہے اور یہ لوگ پہلے منکروں کو وہ کھول کھول کر بتادیا کرتے تھے اب جبکہ وہ اُن کے پاس آ گیا جس کو وہ پہچانتے تھے تو خود ہی منکر ہو بیٹھے تو منکروں پر اللہ کی لعنت ہی ہوا کرتی ہے۔تفسیر - مُصدقی۔ایسے لوگوں کی وہ کتا بیں تھیں جن میں کچھ باتیں آئندہ کی نسبت لکھی ہوئی تھیں۔قرآن کریم سے ان کی تصدیق ہو گئی۔چنانچہ تو رات باب ۱۸، استثناء آیت ۱۸ میں مذکور ہے کہ جب حضرت موسیٰ کے ساتھ جانے والوں نے گھبرا کر کہا کہ اے خدا ! ہم تیری آواز سننا نہیں چاہتے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب وحی تم میں نہیں بلکہ تمہارے بھائیوں میں اترے گی اور پھر اس رسول کے نشان بتائے۔(۱) وہ بت پرستی کا دشمن ہو گا (۲) بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ہوگا (۳) اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔(۴) جو کہے وہ مانیورنہ دکھ پاؤ گے (۵) جو کہے گا وہ پورا ہوگا (1) وہ موسی کا مثل ہو گا۔اعمال حواریوں میں اس مسئلہ کو بالکل حل کر دیا گیا ہے جہاں لکھا ہے کہ تم دعائیں کرو۔ضرور ہے کہ مسیح کے دوبارہ آنے سے پہلے وہ باتیں پوری ہو جاویں جو ہمارے باپ دادا کو کہی گئیں۔اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ پیشگوئی مسیح کے حق میں نہ تھی۔يَسْتَفْتِحُونَ۔یہ باتیں تم کافروں پر کھولا کرتے تھے اور ان کے مقابلہ میں فتوحات کی دعائیں کیا کرتے تھے۔وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ۔اور پہلے اس آنے والے رسولوں کے متعلق خوب کھول کھول کر بیان کرتے تھے۔باب استفعال۔مبالغہ کے لئے بھی آتا ہے۔یہ بھی معنے ٹھیک ہیں کہ آپ کے نام سے ہی فتح طلب کرتے تھے۔(البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخہ ۱۴ نومبر ۱۹۱۲ صفحه ۶۹)