حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 18
حقائق الفرقان ۱۸ سُوْرَةُ الْفَاتِحَة ہر بلاکیں قوم را حق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است له ا۔اوّل تو اِس لئے کہ مصائب اور شدائد کفارہ گناہ ہوتے ہیں۔سو یہ بھی اس کا فضل ہے ورنہ قیامت میں خدا جانے ان کی سزا کیا ہے؟ اس دُنیا ہی میں بھگت کر نپٹ لیا۔۲۔اس لئے کہ ہر مصیبت سے بڑھ کر مصیبت ممکن ہے اس کا فضل ہے کہ اعلیٰ اور سخت مصیبت سے بچالیا۔۳۔مصائب دو قسم کے ہوتے ہیں دینی اور دنیوی ممکن ہے کہ گناہ کی سزا میں انسان کی اولاد مرتد ہو جاوے یا یہ خود ہی مرتد ہو جاوے۔سو اس کا فضل ہے کہ اس نے دینی مصائب سے بچالیا اور دنیوی مشکلات ہی پر اکتفا کر دیا۔۴۔مصائب شدائد پر صبر کرنے والوں کو اجر ملتے ہیں۔چنانچہ حدیث شریف میں آیا کہ ہر مصیبت پر اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ پڑھ کر یہ دعا مانگو۔اللَّهُمَّ أَجْرُنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفُ لِي b خَيْرًا مِنْهَا - اور قرآن شریف میں مشکلات اور مصائب پر صبر کرنے والوں کے واسطے تین طرح کے اجر کا وعدہ ہے۔وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ - أُولَبِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوكَ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَ أُولِيكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقرة: ۱۵۶ تا ۱۵۸) یعنی مصائب پر صبر کر نے والوں اور انا للہ کہنے والوں کو تین طرح کے انعامات ملتے ہیں۔- صلوات ہوتے ہیں ان پر اللہ کے۔لے ہر آزمائش جو خدا نے اس قوم کے لئے مقدر کی ہے، اس کے نیچے رحمتوں کا خزانہ چھپارکھا ہے۔اے اللہ میری مصیبت میں ( صبر پر ) مجھے اجر دے اور بدلے میں اس سے بہتر مجھے دے۔( ناشر ) سے (اور اے پیارے محمد تو ) خوش خبری سنادے ان صابروں کو۔جن پر جب کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو وہ بول اٹھتے ہیں ہم تو اللہ کے (مال) ہیں اور ہم تو ہر حال میں اُسی کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔یہی لوگ ہیں جن پر اُن کے رب کی نوازشیں اور رحمت ہیں اور یہی لوگ منزل مقصود کو پہنچے ہوئے ہیں۔(ناشر)