حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 269
حقائق الفرقان يُؤْمِنُونَ ۲۶۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة وَ قَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ لَعَنَهُمُ اللهُ بِكُفْرِهِم فَقَلِيلًا مَّا ترجمہ۔انہوں نے کہہ دیا کہ ہمارے دل غلافوں میں ہیں ( غلافوں میں کیا ہیں ) بلکہ ان کے کفر کے سبب سے اللہ کی لعنت اُن پر پڑ گئی ہے پس تھوڑے ہیں جو ایماندار ہیں۔لف۔جس کا ختنہ نہ ہو اس پر ایک پردہ رہ جاتا ہے۔اغلف وہ شخص جو نامختون ہے۔تفسیر۔کا دوسرے معنے غلاف میں ہیں جیسے کہ آیا ہے قلوبنا في النة ( حم السجدة:1) تیسرے معنے ہم بڑے مکرم معظم لوگ ہیں جن پر کسی کا اثر نہیں پڑتا۔فَقَلِيلًا مَا يُؤْمِنُونَ۔کم ہی ایمان لاتے ہیں یہ محاورہ ہے یعنی ایمان نہیں لاتے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۸ مؤرخه ۲۵ فروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۵) وَقَالُوا قلوبنا خلف عربی زبان میں نامختون کو غلف کہتے ہیں اور عرب لوگ نامخنتون کو اچھا نہ جانتے تھے۔مگر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ کے لئے اس لفظ کو بھی اپنے لئے پسند کیا اور کہا کہ ہمارے دل نامختون ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرما یا بَلْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ یہ تمہارے کفر کے سبب تم پر لعنت ہوئی۔الفضل جلد نمبر ۲۷ مؤرخہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۱۵) بہت سے لوگ فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُم مِّنَ الْعِلْمِ (المؤمن: ۸۴) پر نازاں ہوتے ہیں اور نئی ہدایت کے ماننے سے پس و پیش کرتے ہیں وہ کہتے ہیں قلوبنا خُلف یعنی ہمارے دل نا مختون ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ بات نہیں بلکہ کفر کے سبب ان پر لعنت پڑ گئی ہے۔البدر جلد ۸ نمبر ۱۴ مؤرخه ۲۸/جنوری ۱۹۰۹ ء صفحه ۹) خُلُف۔توریت میں اس لفظ کو نا مختون کہا ہے وہاں اس لفظ کے یہ معنے ہیں کہ جو ملت ابراہیمی کے خلاف ہو۔یہ معنے بھی ہیں کہ ہمارے دل غلافوں میں ہیں۔لعن۔دھتکارا ہوا۔علم پر عمل نہ کرنا اور پاک بندوں سے مخالفت کرنا غضب ہے۔ا ہمارے تو دل پر دوں میں ہیں۔(ناشر) ۲؎ یہ لوگ خوش ہوئے اس پر جو ان کے پاس علم تھا۔( ناشر )