حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 268 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 268

حقائق الفرقان ۲۶۸ سُورَةُ الْبَقَرَة کیسا اللہ کا فضل اور اس کا رحم اور اس کی غریب نوازی ہے کہ ہمیشہ اپنا پاک کلام ہماری تہذیب کے لئے بھیجتا رہتا ہے۔ اگر کسی آدمی کے نام وائسرائے یا حاکم یا کسی امیر کا خط آ جاوے تو وہ اس سے بڑا خوش ہوتے ہیں اور اس کی تعمیل کو بہت ضروری سمجھتے ہیں اور اس کی تعمیل کرتے ہیں مگر قرآن کریم جو رب العلمین اور تمام جہان کے مالک و خالق کا حکم نامہ ہے اس کی لوگ پرواہ نہیں کرتے اور ہمیشہ اس کی مخالفت ہی کرتے ہیں ۔ کوئی موسی ی پری پر ہی دارن مدار نہ تھا تھا وَ قَفَيْنَا مِنْ بعدہ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ اس اس کے بعد بھی بھی رسول آتے آتے رہے سلیمان و داؤ دبھی اس اس کے بعد ہی آئے ے عیسی بن مریم کو بھی کھلے کھلے نشانات اور تعلیم کھلے کھلے نشانات اور تعلیمیں جن پر کوئی اعتراض نہ آتا تھا دیئے ۔ وہ اخلاقی تعلیم تھی ۔ مان لیتے تو کیا حرج تھا ؟ پھر جب تعلیم آئی بِمَا لَا تَهْوَى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ تم اسے پسند نہیں کرتے اور اسے اپنے مناسب حال بناتے ہو ۔ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُم ایک کو تو تم نے جھٹلایا وَ فَرِيقًا تَقْتُلُونَ اور ایک کواب بھی قتل کرنا چاہتے ہو۔ الفضل جلد نمبر ۲۷ مؤرخہ ۱۷ / دسمبر ۱۹۱۳ صفحه (۱۵) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے موسی کو بھیجا اور پھر اس کے بعد کئی رسول اور بھیجے حتی کہ عیسی کو بھیجا أَيَّدُ لَهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ اور اسے اپنے کلام سے مؤیّد کیا ۔ پارہ ۲۵ سورۃ شوری کے آخری رکوع کی آیت وَ كَذلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ اَمْرِنَا سے معلوم ہوتا ہے کہ روح سے مراد کلام ہے۔ ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۲۵ رفروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۵) وَلَقَدُا تينا - موسیٰ کو کتاب دی ۔ روح - کلام الہی ۔ مسیح علیہ السلام تو موٹی موٹی باتیں ارشاد فرماتے تھے ۔ اخلاقی امور ، کوئی بار یک باتیں نہیں بتاتے تھے۔ البينت - حجت نیرہ، شہادت عظیم الشان نشان ۔ هوى - گرنا ھوی کے معنے پیارا لگنا۔ بِمَا لَا تَھری ۔ جن چیزوں کو تم پسند نہیں کرتے۔ البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۶۹)