حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 266
حقائق الفرقان ۲۶۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں نصیحت کرتا ہے بایں طور کہ جو اگلی قوموں کی برائیاں اور خوبیاں ہیں ان کا بیان کرتا ہے تا کہ مسلمان ان برائیوں سے بچیں۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ ان عذابوں سے محفوظ رہیں گے جوان برائیوں کی وجہ سے ان پر نازل ہوئے اور ان خوبیوں کو اختیار کریں جن کی برکت سے ان پر طرح طرح کے انعام ہوئے۔ان آیات میں یہودیوں کے متعلق فرمایا کہ بہت سے لوگ ورلی زندگی کو پسند کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ موجودہ حالت اچھی رہے۔پس وہ اس آواز کی طرف رغبت کرتے ہیں جو چند منٹ کے لئے لطف دے اور وہ نظارہ اُن کے مرغوب خاطر ہوتا ہے جو عارضی ہولیکن اس سچے سرور کی پرواہ نہیں کرتے جو دائمی ہے اور جس پر کبھی فنا نہیں ہوتی۔ایسے لوگوں کے لئے یہی دنیا کو دین پر مقدم کرنا ایک عذاب ہو جاتا ہے اور وہ ہر لحظہ، ہر گھڑی ان کو دُکھ دیتا رہتا ہے اور کسی وقت بھی کم نہیں ہوتا۔چونکہ عاقبت انہوں نے پسند نہیں کی وہ خدا سے بعد میں ہوتے ہیں۔جو عذاب ہے وہ اس سے معذب ہوتے ہیں لیکن اس قسم کے عذابوں کے وعدے ہر مذہب میں نہیں۔یہ اسلام کی خصوصیت ہے کہ جس عذاب کا وعدہ دیا جاتا ہے اس کا نمونہ دنیا میں بھی دکھا دیا جاتا ہے تا کہ یہ عذاب اس آنے والے عذاب کے لئے ایک ثبوت ہو۔دیکھو! وہ قوم جس میں آج اچھے لڑکے نہیں ان پر کبھی وہ وقت بھی آ جاتا ہے کہ ان میں اچھے لڑکے پیدا ہوں۔وہ قوم جن میں زور آور نہیں ایک وقت ان پر آتا ہے کہ ان میں زور آور پیدا ہوں اگر ان کے پاس آج سلطنت نہیں تو اس زمانہ کی امید کی جاسکتی ہے جب ان میں بھی امارت آ جائے۔ہندوؤں کی حالت گذشتہ و موجودہ پر غور کرو۔جب ہم بچے تھے تو یہ ہندو اتنے تعلیم یافتہ نہ تھے کہ معلم بن سکیں اسی لئے اکثر مسلمان معلمین نظر آتے تھے پھر ہمارے دیکھتے دیکھتے یہ تعلیم میں اس قدر ترقی کر گئے ہیں کہ اب معلم ہیں تو ان میں سے۔افسر ہیں تو ان میں سے۔وہ اپنی طاقت پر اب یہاں تک بھروسہ رکھتے ہیں کہ ہم کو اس ملک سے نکال دینے یا گورنمنٹ پر دباؤ ڈال دینے پر تلے بیٹھے ہیں۔اس بات کا ذکر میں نے صرف اس لئے کیا ہے کہ قوموں میں جہالت کے بعد علم آ جاتا