حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 265 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 265

حقائق الفرقان ۲۶۵ سُورَةُ البَقَرَة جاؤ۔جلا وطن کر دیا گیا حالانکہ ان سے معاہدہ لیا جا چکا تھا کہ وہ ایسے کام نہ کریں گے جن سے یہ جلا وطنی کرنی پڑے۔ادھر مکہ والوں نے پیغام بھیجا کہ تم ان مسلمانوں کی عورتوں کو مارو اور ہم باہر سے لشکر لے کر اُن پر حملہ کرتے ہیں۔چنانچہ وہ ایک اپنے ساتھ گردونواح کی قوموں کو جمع کر لائے سورۃ احزاب میں اس کا ذکر ہے۔آخر خدا تعالیٰ نے اس لڑائی سے مسلمانوں کو بچا لیا۔جب وہ لوگ چلے گئے تو آپ نے بنو قریظہ سے پوچھا کہ تم پہلے دو واقعے قینقاع اور بنونضیر کے دیکھ چکے اور پھر بھی شرارت سے باز نہ آئے اور اب تمہارے حق میں ایک فیصلہ کرتا ہوں جو تمہیں ماننا پڑے گا۔بد قسمت انسان نیک کی بات کو نہیں مانتا اس لئے انہوں نے کہا ہمیں سعد بن معاذ کا فیصلہ منظور ہے نہ آپ کا۔اس نے کہا کہ میری رائے تو یہ ہے کہ جنگ کے شرکاء کو قتل کر دیا جاوے۔یہ فیصلہ انہیں چارونا چار منظور کرنا پڑا۔جن کو قتل کی سزا دی گئی ان کی تعداد کم از کم دوسو پچاس اور زیادہ سے زیادہ نوسو کی بتائی گئی۔خیر یہودیوں کے فرقے تو اس طرح تباہ ہوئے۔باقی رہے عیسائی ان کالاٹ پادری عامر تھا اُس نے لوگوں کو خواب سنایا کہ میں نے محمد (رسول اللہ علیہ وسلم) کو دیکھا ہے کہ وہ پراگندہ اور ملک ملک اکیلا پھر تا ہو ا مر جائے گا۔آپ نے فرمایا خواب تو سچ دیکھا ہے مگر میرا نہیں اپنا یہ انجام دیکھا ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔وہ مکہ گیا اس خیال سے کہ کچھ انتظام مسلمانوں کے خلاف کروں مگر وہاں اس نے شراب پی کر بدمستی کی تو نکالا گیا مگر روما چلا گیا۔وہاں بادشاہ کو سکھا یا مگر بادشاہ کسی امر پر ناراض ہؤا راتوں رات نکل کر بھاگنا پڑا اور آخر اسی طرح مارا گیا۔حدیث میں وَحِيدًا ، طَرِيدًا، شَرِيدا آیا ہے۔اب میدان صاف تھا۔دو گروہ رہ گئے ایک منافقوں کا اور دوسرے مسلمانوں کا۔منافقوں کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا أُولبِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّللَةَ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ورلی زندگی کو اختیار کر لیا اس لئے ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ وہ مدد دیئے جائیں گے چنانچہ جب ان لوگوں کی تباہی آئی کوئی ان کا حامی و ناصر نہ ہوا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۲۵ فروری ۱۹۰۹ صفحه ۱۵) لے اکیلا ، دھتکارا ہوا ، مار بھگایا ہوا۔(ناشر)