حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 264 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 264

حقائق الفرقان ۲۶۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة - أولبِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيَوةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ - ترجمہ۔یہی لوگ ہیں جنہوں نے اس دنیا کی زندگی کو آخرت سے ( بہتر سمجھ کر ) مول لے لیا تو ایسے لوگوں کی سزا تخفیف اور کم نہیں ہو سکتی اور ان کا کوئی معاون اور مددگار نہ ہوگا۔تفسیر۔مدینہ طیبہ میں ایک شخص ایک مسلمان کے ہاتھ سے اتفاقیہ طور پر مارا گیا۔یہ واقعہ گذر گیا مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تمام شہر کے لوگوں کو بلا کر فرمایا کہ ہم مقتول کے وارثوں کو خون بہا دینا مناسب سمجھتے ہیں تا کہ اس کی قوم کے لوگ ہماری مخالفت نہ کریں مگر امنِ عامہ کے شریک اس دیت کے دینے میں شریک نہ ہوئے بلکہ ایک مسلمان عورت تکلا سیدھا کرانے کے لئے قینقاع ( جو لوہار تھے ) کے محلہ میں گئی۔وہ گھونگٹ نکالے ہوئے تھی۔شریر لوہار نے کہا کہ یہ کپڑا کیوں منہ پر ڈالے ہوئے اُس نے جواب دیا۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پردہ کا حکم دیا ہے۔اس پر اس بد معاش نے شرارت سے لوہے کی ایک میخ پچھلی طرف کپڑے میں ٹھونک دی۔عورت اٹھنے لگی تو اس کا کپڑا بھی پھٹ گیا اور گھونگٹ بھی اتر گیا۔یہ حالت دیکھ کر بجائے اس کے کہ معذرت کرتے انہوں نے تمسخر اڑایا۔عورت نے گھبرا کر کہا کہ کوئی ہے جو میری مدد کرے۔ادھر سے ایک مسلمان بھائی نے یہ بات سن لی وہ مدد کو دوڑا۔آپس میں وہاں لڑائی چھڑ گئی جس سے ایک قتل ہو گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب خبر بھیجی تو فرمایا کہ ہم نے بیرونی انتظام کے لئے یہ معاہدہ کیا تھا۔تم اندرونی معاملات میں ایسے تیز ہو جاتے ہو کہ قتل تک نوبت پہنچ گئی ہے۔جب وہ بہت تنگ ہوئے تو مدینہ چھوڑ کر چلے گئے۔ادھر بنو نضیر سے ایک حماقت ہوئی کہ کسی اپنے معاملہ کے لئے نبی کریم صلعم کو اپنے محلہ میں بلالیا اور وہاں ایک شخص کو سکھایا کہ جب یہ دیوار کے پاس بیٹھے ہوں تو تم اوپر سے چلی کا پاٹ گرا دو۔آپ کو ان کی اس بدنیتی کی خبر کسی نہ کسی طرح مل گئی اس لئے آپ یک دم اٹھ کر چلے گئے اور ان کا داؤ نہ چل سکا۔یہ بات بڑھ گئی۔ان میں کچھ شاعر بھی تھے وہ مکہ میں گئے اور وہاں کے سرداروں کو جا کر بھڑ کا یا اور بعض نے مسلمان عورتوں سے تعزیل کیا۔اس لئے بنو نضیر کو حکم ہوا کہ یہاں سے چلے