حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 263 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 263

حقائق الفرقان ۲۶۳ سُورَةُ الْبَقَرَة ہے۔ اس میں دو خبریں دی ہیں ۔ اول یہ کہ اس بد عہدی پر تم دنیا میں ذلیل ہو گے اور یہ امر بظاہر محال تھا کیونکہ ایک طرف کمزور قلیل جماعت اسلام کی اور مقابلہ میں یہ زبردست زمینوں کے مالک۔ تجارتوں میں ممتاز ۔ دوسری خبر یہ ہے کہ قیامت میں تم پر عذاب ہوگا۔ یہ دو اطلاعیں قبل از وقت دی گئیں ۔ پھر تیسری بات یہ ہے کہ وہ قوم با رعب و صاحب جاہ و حشم مع تمام قبائل عرب کے جن کو احزاب کہتے ہیں مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے مگر آخر وہ یہود عرب سے جلا وطن کئے گئے۔ ان کا نام بنونضیر اور بنو قینقاع تھا کانام اور بنو قریظہ کے یہود بالغ سب کے سب مارے گئے ۔ دیکھو د نیوی خبر اور اخروی خبر دو خبریں تھیں اور ان کے مقابلہ میں دو واقعات تھے جن کے متعلق وہ خبریں تھیں۔ ایک خبر نے اپنے واقعہ کے ساتھ صداقت کی مہر لگا دی ہے کہ دوسری خبر عذاب قیامت بھی اپنے واقعہ کو ضرور لائے گی۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن - صفحہ ۴۱، ۴۲) أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ( البقرة : ۸۶) کیا تم قرآن کے بعض حصوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو۔ یہ انکار کتاب اللہ نہیں تو کیا ہے؟ جب کہ کُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة : ۱۱۹) کی ہدایت کی گئی ہے۔ پھر اس حکم کی ضرورت نہ سمجھنا اور عملی طور پر اس کو بیکار ٹھہرانا اس سے بڑھ کر کس قدر ظلم اور حماقت ہوگی ؟ اتقوا الله جو لوگ ایسا کرتے ہیں کہ قرآن شریف کے بعض حصص کا انکار کرتے ہیں خواہ علمی طور پر خواہ عملی وہ یاد رکھیں ان کی پاداش اور سزا بہت خطرناک ہے۔ خِزْيٌ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا (البقرة : ۸۶) اسی دنیا میں وہ ذلیل ہو جائیں گے اور اب دنیا کی تاریخ کو پڑھ لو اور انبیاء علیہم السلام کے معاملات پر غور کرو کہ جن لوگوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا بلکہ انکار کیا ان کا انجام کیا ہوا؟ کیا وہ اسی دنیا میں ذلیل اور خوار ہوئے ہیں یا نہیں؟ جہاں تک تاریخ پتہ دے سکتی ہے یا آثار الصنادید سے پتہ مل سکتا ہے وہاں تک صاف نظر آئے گا کہ خدا تعالیٰ کا یہ ارشاد صاف اور ثابت شدہ امر ہے۔ (الحکم- جلدے نمبر ۳ مؤرخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحه ۴۷٬۴۶)