حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 262
حقائق الفرقان ۲۶۲ سُورَةُ الْبَقَرَة دِيَارِكُمْ ایک دوسرے کو اپنے ملک سے نکالنا نہیں ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ تم نے اقرار تو کیا۔ وَ انْتُمْ تَشْهَدُونَ اور تم گواہی دیتے ہو۔ جیسے تم نے ہمارے ہاتھ پر اقرار کیا۔ کہنا تو آسان تھا مگر معاملات میں دین کو دنیا پر مقدم کر کے دکھلانا ۔ ثُمَّ انْتُمْ هَؤُلَاءِ تَقْتُلُونَ اَنْفُسَكُمُ پھر تم وہی ہو کہ تم نے وعدہ تو کیا مگر ایفا نہ کیا اور تم خوں ریزی کرتے ہو وَ تُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِنْكُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ اور تمہیں اس سے منع کیا تھا کہ کسی کو اپنے گھر سے نہ نکالنا۔ مگر تم ان کو ان کے گھروں سے باہر نکالتے ہو۔ تَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ ان کی پیٹھ بھرتے ہو ظلم اور زیادتی سے کبھی کبھی کوئی نیک کام بھی کر لیتے ہو۔ وَ إِنْ يَأْتُوكُمْ أَسْرَى تُقْدُوهُمْ اگر کوئی قیدی آجائے تو اُسے چھڑا دیتے ہو حالانکہ تمہیں اس سے منع کیا گیا تھا۔ افَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَبِ وَ تَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ کتاب کے بعض حصے پر تو ایمان لاتے ہو اور بعض سے انکار کرتے ہو۔ فَمَا جَزَاء مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْى تم تو دنیا کی عزت بڑھانے کے واسطے ایسا کرتے ہو ۔ مگر پھر ایسوں کی جزا یہ ہے کہ وہ ذلیل ہوں گے ۔ آخرت کی ذلت تو ہو گی ہی وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوں گے اور سخت ذلت اٹھائیں گے اور ان کو سخت سے سخت عذاب ملے گا اور آخرت میں بھی ان کو سخت عذاب میں دھکیلا جائے گا ۔ وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ اللہ تمہاری کرتوتوں سے غافل نہیں ہے۔ الفضل جلدا نمبر ۲۶ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۱۳ ء صفحه (۱۵) کیا اس تحریر کا کچھ حصہ مانتے ہو اور کچھ سے انکاری ہو گئے ہو۔ پس کوئی نہیں سزا اس کی جو ایسا کرے تم میں سے مگر یہ کہ ذلیل ہو اس دنیا میں اور قیامت کے دن بڑے عذاب کی طرف بھیجے جاویں گے اور اللہ غافل نہیں تمہاری کرتوتوں سے ۔ تفصیل۔ مدینہ کے بارعب بنی اسرائیل اور یہود کو یہ خطاب ہے۔ یہ لوگ مدینہ کے نواح میں خیبر ، فدک وغیرہ کے مالک تھے اور بڑے جاہ و حشم کی جماعت تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے معاہدہ کیا تھا۔ آخران بد عہدوں نے اس عہد نامہ کے بعض حصوں کی خلاف ورزی کی اور یہاں تک گستاخی میں بڑھے کہ استیصالِ اسلام کی دھمکیاں دیں۔ ان کے متعلق یہ آیت قرآن کریم میں