حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 261
حقائق الفرقان ۲۶۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ہیں تو پھر واپس دینے میں نہیں آتے۔اسی طرح زنا ، لواطت، چوری، جھوٹ، دغا، فریب سے منع کیا گیا تھا مگر آجکل نوجوان اسی میں مبتلا ہیں۔اسی طرح تکبر اور بے جا غرور سے منع فرمایا تھا لیکن اس کے برخلاف میں دیکھتا ہوں کہ اگر کسی کو کوئی عمدہ بوٹ مل جاوے تو وہ اکڑتا ہے اور دوسروں کو پھر کہتا ہے او بلیک مین ( کالا آدمی ) دوسروں کی تحقیر کرتا ہے اور بڑا تکبر کرتا ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو مکہ میں تو آپ کو بہت سی سہولتیں تھیں۔مکہ میں آپ کے چھوٹے بڑے، بوڑھے، ادھیٹر ہر قسم کے رشتہ دار بھی تھے۔اور آپ کے حمایتی بھی وہاں بہت تھے۔مکہ میں آپ کے دوست غمخوار بھی تھے اور آپ دشمنوں کو خوب جانتے تھے اور ان کی منصوبہ بازی کا آپ کو خوب علم ہو جاتا تھا اور آپ ان کی چالا کیوں اور اپنے بچاؤ کے سامان کو جانتے تھے۔تو جب آپ مدینہ شریف میں تشریف لائے تو آپ کو اس دشمن کی شرارت کا کچھ علم نہ ہوتا تھا اور پھر آپ کے یہاں اور بھی دشمن تھے۔بنوقینقاع اور بنو قریظہ اور بنونضیر آپ کے دشمن تھے اور پھر جہاں آپ اُترے تھے وہاں ابو عامر راہب جو بنی عمرو بن عوف میں سے تھا اس کا جتھا آپ کا دشمن تھا۔یہود چاہتے تھے کہ ایران کے ساتھ مل کر ان سے آپ کو ہلاک کروا دیں اور عیسائی قیصر کے ساتھ ملنا چاہتے تھے اور انہوں نے اپنے ساتھ غطفان اور فزارہ کو بھی ملالیا تھا۔یہ نو مشکلات آپ کو تھیں۔اس سے بڑھ کر یہ کہ یہاں ایک منافقوں کا گروہ بھی پیدا ہو گیا تھا۔ان منافقوں نے عجیب عجیب کارروائیاں کیں۔وہ آپ کے پاس بھی آتے تھے اور آپ کے دشمنوں کے پاس بھی جاتے تھے۔اور بارھویں بات جو اس سے بھی سخت تھی وہ یہ کہ مکہ والے ان پڑھ تھے اور وہ بے قانون تھے۔ان کا مقابلہ صرف عقل سے ہی تھا۔مگر یہاں تمام اہلِ کتاب پڑھے لکھے ہوئے تھے اور ان کے پاس بڑی بڑی کتا بیں تھیں تو رات اور انجیل اور اس کے سوا اور بھی کتابیں ان کے پاس تھیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوچا کہ مدینہ میں مشکلات بہت ہیں اس لئے آپ نے عیسائیوں اور مشرکوں سے معاہدہ کر والیا کہ لا تَسْفِكُونَ دِمَاء کُم آپس میں خوں ریزی نہ کرنا وَ لَا تُخْرِجُونَ أَنْفُسَكُمْ مِنْ