حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 260 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 260

حقائق الفرقان ۲۶۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة کرتے اور ان کی زبانوں کو سکھتے تو پہلے ہمیں ان کتابوں کا ملنا مشکل اور پھر ان زبانوں کا سیکھنا مشکل اور پھر ان کو ایک زبان میں کرنا مشکل۔پھر اس کی تفسیر کون کرتا۔قرآن کریم نے دعوی کیا ہے فیها كتب قيمة (البينة: ٤) جو کتاب دنیا میں آئی اور جو اس میں نصیحتیں ہیں ان تمام کا جامع قرآن ہے با وجود اس جامع ہونے کے ایک ایسی زبان میں ہے جو ہر ایک ملک میں بولی جاتی ہے۔قرآن کریم میں تین خوبیاں ہیں۔پہلی کتابوں کی غلطیوں کو الگ کر کے ان کے مفید حصہ کو عمدہ طور پر پیش کیا ہے اور جو ضروریات موجودہ زمانہ کی تھیں ان کو اعلیٰ رنگ میں پیش کیا اس کے سوا جتنے مضامین ہیں اللہ کی ہستی ، قیامت، ملائکہ، کتب، جزا سزا اور اخلاق میں جو پیچیدہ مسئلے ہیں ان کو بیان کیا جیسے کہ کوئی بدکار ہمارے مذہب پر نا پاک حملہ کرے تو اس کے مقابلے کے لئے فرمایا کہ ان کو گالیاں مت دو۔فَيَسْبُوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ (الانعام: ۱۰۹) پھر وہ اللہ کو اپنی نادانی کے سبب گالیاں دیں گے۔كَذلِكَ زَيَّنَا لِكُلِ اُمَّةٍ عَمَلَهُمُ (الانعام: ۱۰۹) ہر ایک اُمت کے لئے وہ اعمال جو اس کے کرنے کے قابل تھے وہ اس کے سامنے خوبصورت کر کے پیش کئے گئے تھے۔مگر پھر اندھوں کے لئے روشنی کا کیا فائدہ۔میں نے اس کا مقابلہ دوسری کتابوں سے کیا ہے۔انجیل کو دیکھو وہ تو اس سے شروع ہوتی ہے کہ فلاں بیٹا فلاں کا اور فلاں بیٹا فلاں کا مگر قرآن کریم الْحَمْدُ لِلہ سے شروع ہوتا ہے اور انجیل کے اخیر میں لکھا ہے کہ پھر اس کو یہودیوں نے پھانسی دے دیا۔ہماری کتاب کے آخر میں قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ ( النَّاسِ : ۲ تا ۴) لکھا ہے۔بڑا افسوس ہے کہ مسلمانوں کے پاس ایک ایسی اعلیٰ کتاب ہے مگر وہ عمل درآمد کے لئے بڑے کچے ہیں۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر کوئی کسی کی انگلی بھر زمین ظلم سے لے لے گا تو قیامت کے دن سات زمینیں اس کے گلے کا طوق ہوں گی مگر اس پر کوئی عمل نہیں ہے۔اسی طرح معاملات میں دیکھا جاتا ہے کہ ایک آدمی رات بھر سوچتا رہتا ہے کہ کسی کے گھر روپیہ ہو تو اس سے کسی طریقہ سے لیا جائے۔پھر اگر کسی نہ کسی طریقہ سے لے لیتے ا جس میں پائیدار کتابوں کی صداقتیں ہیں۔(ناشر) ۲؎ کہہ دے میں لوگوں کے رب کا آسرا لیتا ہوں۔لوگوں کے بادشاہ کی پناہ لیتا ہوں۔(ناشر)