حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 251
حقائق الفرقان ۲۵۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة من مانی باتوں کو جانتی ہے اور وہ اس وہم و گمان ہی میں مگن ہورہے ہیں۔پھٹکار ہے ان لوگوں کے لئے جو کتاب کو تو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں پھر (جھوٹ ) لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہی اللہ کا حکم ہے تا کہ ان جھوٹی تحریروں سے تھوڑی سی دنیا کمالیں۔پس خرابی اور رسوائی ہے ان کو جنہوں نے یہ ( جھوٹ ) اپنے ہاتھوں سے لکھا اور کمائی پر بھی تھو ہے جو وہ کماتے ہیں۔تفسیر۔امی۔صرف تلاوت قرآن کرتا ہے اور معنے نہیں جانتا۔آماتی۔امیدیں۔امیون۔ماں والے، ماں کے لاڈلے، ان پڑھ۔ویل۔کلمہ افسوس ہے اور جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔يكتبون۔سے مطلب عیسائیوں کے ترجموں سے ہے کہ وہ ترجمے در ترجمے کرتے چلے جاتے ہیں اور اصل عبارت کا پتہ نہیں ہوتا۔ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمے کرنے سے فرق پڑپڑ کر کچھ کا کچھ بن جاتا ہے مگر وہ اس کو کلام الہی کہہ کہ کر تھوڑی تھوڑی قیمتوں پر فروخت کرتے رہتے ہیں۔( البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخہ ۷ /نومبر ۱۹۱۲ء صفحه ۶۴) امانی۔امانی کے تین معنے ہیں (۱) امانی جمع امید کی امیدیں (۲) امانی کے معنے تلاوت۔(۳) امانی کے معنے اکاذیب۔اَن پڑھ ان تینوں باتوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔جھوٹے خیالات، جھوٹی امیدیں۔عبارت تو سن لیتے ہیں مگر مطلب نہیں سمجھتے۔تمنا قليلا - دنیا۔جیسا کہ فرمایا۔مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلُ (النساء: ۷۸) مطلب یہ کہ وہ دنیا کی چند روزہ فائدہ کے لئے دین کو چھوڑتے ہیں۔مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ۔( بائیبل خصوصا اس میں اناجیل اور اس کے ملحقات ترجمہ در ترجمہ ہو کر اس کی مصداق ہو چکی ہے اور اب کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اصل کیا تھا )۔( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۲۵ فروری ۱۹۰۹ صفحه ۱۴) یہ سچی بات ہے کہ ترجمہ مترجم کے ذاتی خیالات ہوتے ہیں۔اب دیکھ لو نصارای قوم تراجم کو لے جھوٹی باتیں۔(مرتب)