حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 250
حقائق الفرقان ۲۵۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ذلتیں ان پہلے خبیثوں کو اٹھانی پڑی ہیں تم بھی اُن کے برداشت کرنے کے لئے کمر بستہ ہو جانا۔مگر افسوس کہ اب مسلمانوں پر وہی زمانہ آ گیا جس کے لئے ان کو پہلے ہی تنبیہ کی گئی تھی۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ بعض بعض اُلو کے چرنے گاؤ کشی کے خلاف گئو رکھشا کے ہیڈ نگ دے دے کر گائے کی پرستش کے ممد و معاون ہیں اور باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں نہایت صفائی کے ساتھ ارشاد الہی لوگوں کے دلوں سے گائے کی عظمت اٹھا دینے کے لئے۔اس کے ذبح اور قربان کرنے کے لئے لکھا پا کر بھی قرآن کی مخالفت کرتے اور اس کے حرفوں کو تبدیل کر کے ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ (البقرۃ:۷۶) کے مصداق بنتے ہیں۔ހކވވހ ان کی یہ حالت اس امر کا اظہار کرتی ہے کہ یا تو وہ برائے نام ہی مسلمان ہیں۔قرآن کو جانتے ہیں خوب سمجھتے ہیں مگر اپنی خباثت اور منافقت طبع کی وجہ سے وہ ہندوؤں سے سگرہ بھلائی لینے کے لئے خدائی احکام کی مخالفت اسلام کی آڑ میں کر رہے ہیں۔یا وہ بالکل قرآن سے واقف ہی نہیں بلکہ لا یعقل بیوقوف ہیں۔اس لئے بیہودہ بکواس کر رہے ہیں اور مطلب اس سے صرف اسی قدر ہے کہ کوئی ہمیں بھی قاضی و مفتی سمجھے۔یا یہ بات ہے کہ اگر چہ وہ بظاہر کسی مسلمان کے گھر پیدا ہو گئے مگر حقیقتاً ان میں کسی دال خور گئو کی رکھشا کرنے والے اور اس کے پرستار کا خمیر شامل ہے جو ان کو ان کے آبائی فطرت کے مطابق مجبور کر کے یہ کارروائی کرا رہا ہے۔ورنہ اگر یہ بات بھی نہیں تو ان کو مفتی و قاضی مقرر کس نے کیا ہے؟ کہ تم اس امر میں ضرور ہی فتوی دو۔(البدر- کلام امیر حصہ دوم مورخہ ۷ /نومبر ۱۹۱۲ء صفحه ۶۴،۶۳) ٧٩ ٨٠ - وَ مِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لَا يَعْلَمُونَ الْكِتَبَ اِلَّا اَمَانِي وَإِنْ هُمُ الا يَظُنُّونَ - فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَبَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَوَيْلٌ لَهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ بوو 179 لهم مما يكسبون - مِّمَّا - ق ترجمہ۔اور بعض اُن میں سے وہ ناواقف قوم بھی ہے جو کتاب کو تو کچھ سمجھتی بو جھتی نہیں مگر واہیات لے جو کلام اللہ کوس سمجھ کر پھر اس کو تبدیل کرتا ہے حالانکہ وہ اُس کے درست معنی کا علم رکھتا ہے۔( ناشر )