حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 249
حقائق الفرقان ۲۴۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة تعلق نہیں) کہ وہ ہماری رنج و راحت میں بالکل شریک نہیں ہوتے اور ہمیں پوچھتے تک نہیں۔وَإِذَا خَلَا بَعْضُهُم إلى بعض۔اور جب یہ آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ دیکھو تم نے فلاں بات جو تم کو سمجھ آگئی وہ کیوں بتلائی۔اب وہ تم کو خدا کے رو بر وملزم ٹھہرائے گا۔اَوَلَا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُونَ وَمَا يُعْلِنُونَ (البقرة: ۷۸) کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ اُن کے چھپے اور ظاہر اور ان کے سب بھیدوں کو جانتا ہے تو وہ پھر چھپاتے کس سے ہیں۔الفضل جلد نمبر ۲۴ مورخه ۲۶ نومبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) منشی جمال الدین مدار الہمام۔۔۔۔مغرب کے بعد خود قرآن شریف کا لفظی ترجمہ پڑھایا کرتے تھے۔ایک روز میں بھی اس درس میں چلا گیا۔وہاں یہ سبق تھا۔وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَ إِذَا خَلَا بَعْضُهُم إلى بعض (البقرة: ۷۷)۔۔۔۔۔میں نے کہا کیا اجازت ہے ہم لوگ کچھ سوال بھی کریں؟ منشی صاحب نے فرمایا بخوشی۔میں نے کہا یہاں بھی منافقوں کا ذکر ہے اور نرم لفظ بولا ہے۔یعنی بَعْضُهُم إلى بَعْضٍ اور اس سورۃ کے ابتداء میں جہاں انہیں کا ذکر ہے وہاں بڑا تیز لفظ ہے۔اذا خَلَوْا إِلى شَيْطينهم (البقرة : (۱۵) اس نرمی اور سختی کی کیا وجہ ہو گی ؟ منشی صاحب نے فرمایا کیا تم : جانتے ہو؟ میں نے کہا۔میرے خیال میں ایک بات آتی ہے کہ مدینہ منورہ میں دو قسم کے منافق تھے، ایک اہل کتاب ، ایک مشرک۔اہل کتاب کے لئے نرم یعنی بعضھم کا نرم لفظ اور مشرکین کے لئے سخت إلى شيطينهم بولا ہے۔منشی صاحب سن کر اپنی مسند پر سیدھے کھڑے ہو گئے اور میرے پاس چلے آئے۔مجھ سے کہا کہ آپ وہاں بیٹھیں اور میں بھی اب قرآن شریف پڑھوں گا۔قدرت الہی ہم وہاں ایک ہی لفظ پر قرآن کریم کے مدرس بن گئے۔(مرقات الیقین فی حیات نورالدین صفحہ ۱۰۲) پس اے مومنو! کیا تم یہ امید رکھتے ہو کہ وہ ایمان لائیں گے کیونکہ وہ تو ایک ایسا خبیث فریق تھا کہ باوجود اُس نے کلام الہی کو سننے اور سمجھنے کے تبدیل کر دیا۔اس رکوع کی تین آیتوں میں خدائے تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہود کا قصہ سنا کر ڈرایا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی ( گئوماتا جی کے ) پرستاروں یا ان کے معاونین میں شامل ہو جاؤ۔اگر تم نے ان جیسی چال اختیار کی تو یا درکھو کہ جس جس قسم کی