حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 243
حقائق الفرقان ۲۴۳ سُورَةُ الْبَقَرَة کو بعض کے ساتھ مار و قاتل کو قتل کرو اسی طرح اللہ تعالیٰ زندہ کیا کرتا ہے مردوں کو اور اپنی نشانی تم کو دکھایا کرتا ہے تا کہ تم عقل سیکھو۔وَ لَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيُوةٌ پر غور کرو۔بچ گئے۔اذْ قَتَلْتُم نَفْسًا۔ایک یہودی نے ایک مسلم عورت کو مار دیا۔وہ قریب المرگ حالت میں بتائے گئی میرا قاتل کون ہے۔پس حکم ہوا اس کو مار دو۔ببعضها بعض کے بدلے میں۔اس لئے فرمایا کہ کوئی خواہ سوکو مارے آخر اسی ایک قاتل کو قتل کیا جائے گا۔ب دوم جُرم کا ارتکاب خدا جانے کتنی بار کر چکا ہے اور اب پکڑا گیا۔يخي الله الموتى - وَ لَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيوة اس قاتل کو مارنے سے آئندہ قتل ہونے والے تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۳۷، ۴۳۸) میں نے اس آیت پر غور کیا ہے وَاذْ قَتَلْتُم نَفْسًا یہ ایک سیدھی آیت ہے اس کے معنے " تم نے ایک آدمی کو مار ڈالا۔آدمی کو تو مارا ہی کرتے ہیں۔یہ ترجمہ اس کا صحیح نہیں۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم نے ایک جی یا جان کو مارا پھر اپنے آپ سے ہٹانے لگے کہ ہم نے نہیں مارا۔معلوم ہوا کہ وہ جان ایسی نہ تھی جس کا وہ بہادری کا کام سمجھ کر اقرار کرتا۔کعب بن اشرف مارا گیا۔اس کے قاتل کا پتہ پوچھنے پر نبی کریم نے فرمایا میں نے مارا ہے۔ابورافع مارا گیا اس کے لئے بھی نبی کریم صلعم نے فرمایا کہ ہم نے اس کو مارا ہے گشت وخون جیسا کہ آجکل سرحدیوں ، وزیریوں اور محسور یوں وغیرہ میں ہے ایسا ہی عرب میں تھا۔سب کے نزدیک عورت کا مارنا بہت معیوب ہے۔ابوسفیان نے کہا تھا کہ آپ اس لڑائی میں عورتوں کو بھی مقتول پائیں گے مگر میں نے یہ حکم نہیں دیا۔میں ایک دفعہ ایک رئیس کے ساتھ جس کے ساتھ انگریز بھی تھے سور کے شکار میں گیا۔سامنے سے ایک سو ر آیا۔اس کا گھوڑا اس سے ڈر گیا۔وہ جھک کر گھوڑے کو ایک طرف دوڑا کر لے گیا۔ایک انگریز بھی ان میں تھا اس نے اس رئیس کو کہا کہ واہ۔آپ کا گھوڑا سؤ رسے ڈر گیا تو اس رئیس نے کہا کہ آپ نے دیکھا نہیں۔میں جھکا تھا۔میں نے دیکھا کہ وہ سور کی مادہ سو رنی تھی۔ہم سپاہی مادہ کو نہیں مارا کرتے۔تو اس انگریز نے دوسرے انگریزوں کو کہا شکر ہے ہم نے اس کو نہیں مار اور نہ ہماری تو بدنامی ہوتی۔