حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 240
حقائق الفرقان ۲۴۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة گائے کی پرستش ہوتی تھی اور وہ ان میں درشنی گائے تھی۔چنانچہ تَسُرُّ النَّظِرِينَ اور تُثِيرُ الْأَرْضَ وَلَا تَسْقِي الْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌ لَا شِيَةَ فِيهَا ( البقرة : (۷۲) ( سے ) اس کا صاف پتہ لگتا ہے۔اس کا ذبح کرنا بت پرستی کی جڑ کاٹنی تھی۔ج (نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈیشن۔صفحہ ۲۱۸) فرعون جو تھا اس کے آباء و اجداد گاؤ کی پرستش کرتے تھے۔اسکندریہ میں ایک لائبریری تھی اس کو بروچیم کہتے تھے۔بروچیم بیل کا نام ہے۔اس لائبریری کے آگے ایک بیل بنا ہوا تھالائبریری کی حفاظت کے لئے۔مؤرخوں کا اس میں اختلاف ہے کہ بنی اسرائیل مصر میں ڈھائی سو سال رہے یا چار سو سال۔خیر یہ تمہاری دلچسپی کی بات نہیں۔اور فرعون کے سر کا تاج بھی گئؤ موکہی کا تھا اور اس کا بڑا ثبوت قرآن سے یوں ملتا ہے کہ جب بنی اسرائیل وہاں سے آئے تو بار بن کر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زیر اثر تھے۔سیدنا موسیٰ علیہ السّلام کے بعد انہوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کر دی۔گاؤ کو تو پہلے ہی مانتے تھے۔انبیاء کوتو شرک سے نفرت ہی ہوتی ہے۔موسی علیہ السلام کو بچھڑے کی پرستش بری لگی سیدنا موسیٰ علیہ السّلام نے فرمایا کہ گاؤ کی قربانی کرو۔عادت بڑی بری بلا ہے۔لگے ایچ پیچ بنانے۔سیدھی بات تھی گائے ذبح کر دیتے۔۔۔موسی اتنا بڑا اولوالعزم نبی تھا کتنے نشان دکھلائے۔فرعون کی غلامی سے بچایا۔ید بیضاء، عصاء، جراد، و با قمل ، طوفان وغیرہ وغیرہ دکھائے۔فرعون غرق ہو ا۔اسی دریا سے بنی اسرائیل بچ کر نکل آئے۔ان کے دل میں کوئی ادب معلوم نہیں ہوتا اور کہنے لگے کہ کیا آپ ہنسی کرتے ہیں۔کہا اَعُوذُ بااللہ یہ تو جاہلوں کا کام ہے۔ہماری سرکار نے فرمایا، صلی اللہ علیہ وسلم ، کہ میں تم سے بڑا عالم اور متقی ہوں۔ٹھٹھا یا محول کرنا عالم کا کام نہیں۔مجھے یاد نہیں کہ کبھی درس میں یاطب میں ٹھٹھا کیا ہو۔وہ بد معاش خوب سمجھتے تھے کہ سید ناموسی کی کیا غرض تھی مگر رسم کے خلاف کرنا بھی مشکل تھا اِس لئے خوئے بدرا بہانہ ہا بسیار یا ، کہتے ہیں کہ أدعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنُ لَنَا مَا هِيَ یہ تمسخر ہے۔جواب ملا گائے ہے، نہ بچھیا ہے اور نہ بڑھیا ہے اور لے اگر عادت بری ہو تو اس کے لئے بے شمار بہانے مل جاتے ہیں۔