حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 15
حقائق الفرقان ۱۵ سُوْرَةُ الْفَاتِحَة لفظ سمو ہوگا۔ب۔کے تین معنے یہاں ہو سکتے ہیں اول بسبب۔دوم۔ساتھ۔سوم - قسم۔اسم کا لفظ سے نکلا ہے اور اس کے معنے بڑائی کے ہیں تو اب بسم کے معنے ہوئے۔بسبب عظمت الہی۔یا ساتھ عظمت الہی کے۔یا قسم ہے عظمت الہی کی۔(البدر جلد نمبر ۱۱ مورخه ۹رجنوری ۱۹۰۳، صفحه ۸۷) راسم نام کو کہتے ہیں۔اس میں زمانہ دراز سے بحث چلی آئی ہے کہ اس کا ماخذ اور اصل سمو ہے جو بمعنی علو" ہے یا وسم ہے جو بمعنی علامت ہے لیکن اب حضرت امام ہمام واجب الاتباع اور مطاع نے (جس کی نسبت مخبر صادق نے خبر دی تھی کہ وہ احکم الحاکمین کی طرف سے حکم عدل ہو کر آئے گا ) یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ اسم وسم سے بنایا ہوا ہے اور وہ اپنے مسٹمی پر دال اور علامت (رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ا۔جولائی ۱۹۰۶، صفحہ ۳) ہوتا ہے۔اللہ نام ہے اُس ذات کا جو کہ سب نقصوں سے پاک اور سب کمالات کی جامع ہے اور یہی (رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ا۔جولائی ۱۹۰۶ صفحہ ۴) اس کے معنے ہیں۔اللہ جامع جمیع صفات کا ملہ اور ہر ایک بدی سے منزہ۔ایسی ذات جس کی عبادت میں کوئی شامل (البدر جلد نمبر ۱۱ مورخه ۹ /جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۸۷) نہ کیا جاوے۔اللہ سب خوبیوں کا جامع۔سب بدیوں سے منزہ۔معبود حقیقی۔عربی کے سوائے کسی دوسری زبان میں خدا تعالیٰ کے نام کے واسطے کوئی ایسا مفر دلفظ نہیں ہے جو خاص اسی کے واسطے ہو اور کسی دوسرے پر اس کا اطلاق نہ پاسکے۔انگریزی کا لفظ گاڈ (god) دیوی دیوتا۔سب پر بولا جاتا ہے اور لفظ لارڈ (Lord) تو بہت ہی عام ہے۔سنسکرت کا لفظ اوم بھی مرتب اور ہے غالباً آم سے نکلا ہے کیونکہ یہ عبادت میں اوم سے دعائیں مانگتے ہیں۔عبرانی کا ایل۔الا سے نکلا ہے اور یہوواہ یا ھو سے نکلا ہے۔( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۲) الرحمٰن۔اس کے معنے ہیں بن مانگے اور بے عوض رحمت کرنے والا جیسا کہ قرآنِ مجید کے استعمال سے ثابت ہے۔مثلاً فرماتا ہے۔اَلرَّحْمٰنُ - عَلَمَ الْقُرْآنَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ - عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۱۔جولائی ۱۹۰۶ صفحہ ۴) (الرحمن: ۲ تا ۵) ا رحمن نے قرآن سکھایا ہے۔انسان کو پیدا کیا۔اس کو بیان کرنا سکھایا۔( ناشر ) لے