حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 239
حقائق الفرقان ۲۳۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ج و لَمُهْتَدُونَ - قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لا ذُلُولُ تُثِيرُ الْأَرْضَ وَلَا تَسْقِى الْحَرْثَ : مُسَلَّمَةٌ لَا شِيَةَ فِيهَا ، قَالُوا الْنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ فَذَبَحُوهَا وَ مَا كَادُوا يَفْعَلُونَ - ترجمہ۔اور یہ کیفیت بھی یاد کرو کہ جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم ! تم کو تحقیق اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ تم ایک گائے ذبح کرو۔قوم نے جواب دیا، اے موسیٰ ! کیا تم ہم سے ٹھٹھا کرتا ہے موسیٰ نے جواب دیا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں میں تو جاہل لوگوں میں سے نہیں ہوں اور نہ ہونا چاہتا ہوں۔قوم نے کہا (اگر یہ ہی حکم ہے ) تو تو اپنے رب سے اتنا تو پوچھ دے کہ ہم کو بتا دے کہ وہ گائے کونسی ہے؟ موسیٰ نے کہا تحقیق اللہ فرماتا ہے کہ بے شک وہ ایک گائے ہے نہ تو بہت بڑھی ہے اور نہ بچھیا ہے ادھیڑ عمر کی ہے تو جو تم کو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرو۔( پھر ) قوم نے کہا ، اپنے رب سے یہ بھی تو پوچھ دو کہ ہم کو بتا دے کہ اُس گائے کا رنگ کیسا ہے؟ موسیٰ نے جواب دیا تحقیق اللہ فرماتا ہے کہ بے شک وہ گائے زرد رنگ کی ہے اُس کا رنگ بھڑک دار ( شوخ ) ہے دیکھنے والوں کو بہت بھلا معلوم ہوتا ہے۔پھر قوم نے کہا تو اپنے رب سے کوئی خاص علامت ) پوچھ دے کہ ہم کو بتاوے کہ وہ کونسی گائے ہے۔بے شک وہ گائے ہم پر مشتبہ ہوگئی ہے اور ہم اگر اللہ چاہے تو اپنے مقصود کو پالیس گے۔موسیٰ نے کہا بے شک اللہ فرماتا ہے وہ گائے ایسی ہے جس سے کوئی محنت نہیں لی جاتی زمین میں ہل جو تنے کی اور نہ اس سے کھیتی کو پانی ہی دیا جاتا ہے موٹی تازی صحیح سلامت بے داغ گائے ہے۔بول اٹھے کہ (ہاں) اب تو حق و ہدایت لے کر آیا پس انہوں نے اس گائے کو ذبح تو کیا گو دل سے اس کو ذبح کرنا نہ چاہتے تھے۔تفسیر۔تَذْبَحُوا بَقَرَةً۔وہ لوگ گائے کی پرستش کرتے تھے خدا نے ان سے درشنی گائے ذبح کرائی۔مُسَلَّمَةٌ - اِن کاموں (تُثِيرُ الْأَرْضَ وَلَا تَسْقِي الْحَرْثَ ) سے بچے۔بے داغ۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۲۵ رفروری ۱۹۰۹ء صفحه ۱۳) انبیاء بنی اسرائیل شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے۔بعض نادان فرقوں میں ایک