حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 237 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 237

حقائق الفرقان ۲۳۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة يَكْتُمُونَ وَتَرى كَثِيرًا مِنْهُمْ يُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ - (المائدة: ۶۱ تا ۶۳) میں تمہیں آگاہ کروں کہ اللہ کے حضور بدتر بدلہ پانے والا کون ہے وہی گروہ جسے اللہ نے اپنی رحمت سے دور کیا اس پر غضب نازل کیا جن کو بندر اور سور بنایا کیونکہ انہوں نے طاغوت کی فرمانبرداری کی۔انہی لوگوں کا بُرا ٹھکانا ہے اور سیدھے راستے سے بہت دور ہیں۔جب وہ تمہارے پاس آئے تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے حالانکہ وہ کفر سے بھرے ہوئے آئے اور اسی کے ساتھ نکل گئے اور اللہ جانتا ہے جسے وہ چھپاتے ہیں اور تو ان میں سے بہت کو دیکھے گا کہ گناہ اور زیادتی میں اور حرام خوری میں پیش دستی کرتے ہیں۔بہت برا ہے وہ امر جو وہ کر رہے ہیں۔اس سے صاف ثابت ہوا کہ ان کی شکلیں مسخ نہیں ہوئیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۲۵ فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۱۳) اور تم جان چکے ہو ان لوگوں کو جنہوں نے تم میں سے ہفتے کے دن میں زیادتی کی۔پس ہم نے کہا ان کو کہ ذلیل بندر ہو جاؤ۔( فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب۔حصہ اوّل صفحہ ۱۴۴ حاشیہ) سبت لغت میں آرام کو کہتے ہیں۔دیکھو قاموس - السبتُ الرَّاحَةُ۔اور ہفتے کے دن کو بھی کہتے ہیں۔یہودی آرام کے دنوں میں یا یوں کہو سبت کے دن خداوند خدا کی نافرمانی کرتے اور ان کی سرکشی اور بغاوت پر جب باری تعالیٰ کا غضب بھڑکتا تو ذلیل اور خوار ہو جاتے۔اور ان کی حالت اس ذلت اور ادبار کی وجہ سے گویا بندروں اور سوروں اور کتوں کی سی ہو جاتی۔اسی مجاز کو قرآن کریم بیان کرتا اور اہل کتاب کو جو زمانہ نبوی میں تھے ان کے اسلاف کا عبرت انگیز حال یاد دلا کر نصیحت دیتا ہے۔ایسے مجازوں کو جو کتب الہامیہ میں خصوصا اور ہر زبان میں عموما مستعمل ہوتے ہیں حقیقت اور نفس الامری سمجھ لینا سخت غلطی ہے اور یہ خوش نہی انہیں حضرات نصاری سے ہی مخصوص ہے۔فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۱۴۵،۱۴۴) چونکہ یہود کو سبت کی حفاظت کی تاکید شدید تھی جیسا خروج ۲۰ باب ۹۔اور ۳۵ باب سے پایا جاتا ہے۔مگر وہ شریر قوم بخلاف حکم ربانی بغاوت اور عصیان کرتی تھی اس لئے غضب خداوندی ان پر نازل