حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 235
حقائق الفرقان ۲۳۵ سُورَةُ الْبَقَرَة ۶۶، ۶۷ - وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدُوا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَسِينَ - فَجَعَلْتُهَا نَكَالًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ - ترجمہ بے شک تم تو جانتے ہی ہو ان کو جنہوں نے آرام اور سکھ کے دن میں خلاف حکم الہی زیادتیاں کیں تو ہم نے ان کو کہہ دیا کہ تم ہو جاؤ خفیف العقل بندر ذلیل ۔ پھر ہم نے اس نافرمان جماعت کو موجودہ اور آگے آنے والے لوگوں کے لئے عبرت کا مقام بنادیا اور اللہ سے ڈرنے والوں کے واسطے بڑی نصیحت کا موجب ہوا ۔ تفسیر اور البتہ جان چکے ہو جنہوں نے تم میں سے زیادتی کی ہفتہ کے دن میں تو کہا ہم نے ہو جاؤ بندر پھٹکارے۔ پھر ہم نے وہ دہشت رکھی اس شہر کے روبرو والوں کے اور پیچھے والوں کو ۔ اور نصیحت رکھی ڈروالوں کو ۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۳۰۳) لَقَدْ عَلِمْتُم - خاسرون میں سے ہونے کی ایک مثال دیتا ہے کہ جو لوگ اللہ کے حکم کو نہیں مانتے وہ کس طرح دکھوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ علمتم یعنی تمہیں یہ واقعہ خوب معلوم ہے۔ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ ۔ خدا کے حکموں سے نکل کر کام کیا اور البی حد بندیوں کو توڑ دیا۔ في السبت - سبت کے معنے ہیں آرام ، راحت، آسودگی کے۔ لغت میں ہے السبت۔ الراحة - اکثر لوگ جب خدا انہیں دولت و مال، جاہ و جلال، جتھا، صحت عافیت دیتا ہے تو اس آسودگی میں خدا کو راضی کرنے کی بجائے ناراض کر لیتے ہیں اور قسم قسم کی بدیاں اور حق تلفیاں کرتے ہیں اور اس آرام میں حدود الہیہ سے نکل جاتے ہیں۔ سبت کے ایک اور معنے بھی ہیں وہ ایک دن کا نام ہے جیسے ہمارے ہاں جمعہ ہے۔ یہودیوں میں بھی ہفتہ ایک دن ایسا مقرر کیا گیا تھا جس میں ارشاد الہی تھا کہ شکار نہ کرو۔ وہ یوں کرتے تھے کہ گڑھوں میں مچھلیوں کو روک لیتے تھے اور دوسرے دن اٹھالا تے اور کہتے کہ آج تو سبت نہیں ہے۔ شریعت کے احکام میں کئی لوگ ایسے حیلے بنا لیتے ہیں جس سے ظاہری طور پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا مگر خدا تو ان کے دلوں کی نیتوں کو خوب جانتا ہے اس کو یہ لوگ