حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 231
حقائق الفرقان الْيَوْمِ ۲۳۱ سُورَةُ الْبَقَرَة - إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَ النَّصْرَى وَالشَّبِينَ مَنْ أَمَنَ بِاللهِ وَ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ * وَلَا۔وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ رور دور لَا هُمْ يَحْزَنُونَ - ترجمہ۔جو لوگ مسلمان ہیں اور جو یہودی کہلاتے ہیں اور نصاریٰ اور ستاروں کو پوجنے والے ہمہ حق بولنے والے صابی (ان میں سے کوئی ہو ) جس نے سچے دل سے اللہ اور قیامت کو مانا اور بھلے کام کئے تو ایسے لوگوں کو اُن کے رب کی طرف سے ضرور اجر ملے گا اور نہ اُن کو کوئی آئندہ غم ہوگا اور نہ گزشتہ ہی عمل کے لئے وہ غمگین ہوں گے۔یہاں تین باتوں کا ذکر آیا ہے ایک تو یہ کہ اسلام کے بعد دوسروں کے ساتھ تعلقات کیسے ہوں؟ دوم ایمان کے بعد ہمارا عمل درآمد کیسا ہو؟ سوم یہ کہ اگر کہا نہ مانو گے تو حال کیا ہوگا؟ فرماتا ہے جو لوگ کسی قسم کے ایمان کا دعوی کرتے ہیں خواہ دہر یہ ہی ہوں غرض پابند ہوں کسی چیز کے کسی اصل کے۔پھر وہ خواہ یہودی ہوں یا عیسائی ہوں یا صابی۔جو کوئی اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے۔ان دو باتوں کا ذکر اس لئے کیا کہ ایمان کی جڑ اللہ پر ایمان ہے اور ایمان منتہی آخرت پر ایمان اور جو آخرت پر ایمان لاتا ہے اس کا نشان بھی بتا دیا کہ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَهُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ (الانعام: ۹۳) وہ ایک تو تمام قرآن مجید پر ایمان لاتا ہے دوم اپنی صلوۃ کی محافظت کرتا ہے۔آج ہی ایک نوجوان سے میں نے پوچھا نماز پڑھتے ہو؟ اُس نے کہا صبح کی نماز تو معاف کرو۔۔۔باقی پڑھتا ہوں۔یہ مومن کا طریق نہیں ہے۔ایک مقام پر فرمایا اَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْض الكتب وَ تَكْفُرُونَ بِبَعْض (البقرة :۸۲) پس تمام کتاب پر ایمان و عمل موجب نجات ہے۔اس آیت میں اللہ نے بتا دیا ہے کہ ایک ہندو، ایک عیسائی ، ایک چوہڑا، ایک چمار جب لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ پڑھتا ہے اور یوم آخرت کا قائل ہو جاتا ہے تو وہ مسلمان بنتا ہے اور پھر تم سب ایک ہو جاتے ہو۔یہ اخوت اسلام کے سوا کسی مذہب میں نہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ شرفاء، حکماء، غرباء، ایک صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔اِس فرمانبرداری کا نتیجہ بھی بتا دیا کہ وہ لاخوف