حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 225
حقائق الفرقان ۲۲۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اضْرِبُ نِعَصَاكَ الْحَجَرَ۔اس کے کئی معنے ہیں۔سبھی معنے صحیح ہوں گے۔ایک تو یہ کہ اس پہاڑ پر تم اپنا عصا مارو وہاں بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور یہ امرممکن ہے کیونکہ زمین کے اندر پانی چلتا ہے اور جہاں اللہ کی مرضی ہو پھوٹ نکلتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو کشف صحیح عطا کیا۔آپ کو جب اعلام النبی سے معلوم ہوا کہ یہاں کوئی پانی قریب ہی جاتا ہے تو برچھا مارا اور اس سے چشمہ پھوٹ نکلا۔میرے خیال میں فلسفی کا اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔مگر ایک اور معنے بھی مجھے پسند ہیں وہ یہ کہ لے جا اپنی جماعت کو پہاڑ پر۔عصا کے معنے عربی زبان میں جماعت اسلام یعنی فرماں بردار جماعت کے ہیں۔لاٹھی کو بھی اس لئے عصا کہتے ہیں کہ اس پر انگلیوں کی جماعت اکٹھی ہوتی ہے۔لا تعثوا۔جب گھر سے بلا محنت کھانا ملے اور پیٹ بھر جائے تو بعض لوگ فرمانبرداری کی قدر نہیں کرتے اور ان کے دماغ میں باغیانہ خیالات اٹھتے ہیں۔پس وہ امن میں خلل ڈالتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ نے تمہیں بے محنت رزق دیا تو بجائے شکر، فساد نہ کر و۔عھی۔سخت فساد کو کہتے ہیں۔لا تعفوا۔بہت شرارت نہ کرو۔لَن نَّصْبِرَ عَلَى طَعَامٍ وَاحِدٍ - اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارے پانی ہی کا انتظام نہیں کیا بلکہ تمہیں اپنی جناب سے طیب کھانا بھی دیا۔طَعَامٍ وَاحِدٍ۔ایک ہی طرز پر یعنی جنگل سے۔یا یہ کہ من جو انہیں ملتی تھی وہ ہمیشہ ہی ملتی۔سلوای کی نسبت تو رات میں لکھا ہے کہ چند روز ملی۔بقلھا۔ترکاریاں زمین کی۔نا کھا۔لکڑیاں زمین کی۔قوم لہسن کو کہتے ہیں اور گیہوں کو بھی۔میری سمجھ میں انہوں نے ان چیزوں کا ذکر کر کے زمیندارہ چاہا۔بالذی۔بدلے اس کے۔خیر۔یہ خیر کی تھی سنو ! مجھے ان معنوں پر یقین ہے کہ وہ خیر فرعون کی غلامی اور ماتحتی سے چھڑا کر