حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 221 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 221

حقائق الفرقان ۲۲۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اب ہر دو آیہ کریمہ کے معنی بتاتے ہیں مگر اتنا اور یادر ہے کہ یہاں جناب الہی نے اَخَذَتْكُم رووو الصعِقَةُ فرمایا ہے اَهْلَكَهُمُ الصَّاعِقَةُ نہیں فرمایا پھر اس کے ساتھ بتایا ہے کہ وَ انتُم تنظرُونَ اِس کے کیا معنے کہ جنہیں بجلی یا صاعقہ نے پکڑا وہ دیکھ رہے تھے۔لہذا اس آیت شریفہ اَخَذَ تُكُمُ الطَّعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُونَ (البقرة : ۵۲) کے یہ معنی ہوئے کہ تم کو خاص صاعقہ نے پکڑ لیا اور تم دیکھ رہے تھے۔۔خاص کا ترجمہ ہم نے لفظ ال سے لیا ہے جو الصَّاعِقَہ کے پہلے ہے اور اس صاعقہ سے مراد وہ صاعقہ ہے جور جعت کے وقت انتشار کرتی ہے اور دوسری آیۃ کریمہ کا ترجمہ یہ ہے ثُمَّ بَعَثْكُم مِّنْ بَعْدِ مَوْتِكُم (البقرة: ۵۷) پھر اٹھایا ہم نے تم کو تمہاری موت کے بعد۔چونکہ موت کے معنی میں دکھ اور تکلیف بھی آیا ہے اس لئے یہاں تکلیف ہی لیں گے کیونکہ معانی مختلفہ میں حسب قرینہ و امکان معنی لئے جاتے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم صاعقہ میں سخت مبتلا ہوئی اور امید زیست نہ رہی اور ایک قسم کی موت ان پر طاری ہوگئی تو جناب موسیٰ کی اس قوم پر الہی رحم ہوا اور آخر وہ بچ گئی۔( نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۱۳ تا ۲۱۷) پھر تم نے اس کے بعد ایک بڑی بھاری گستاخی یہ کی کہ تم نے موسیٰ کو یہ کہا۔اے موسیٰ ! ہم تجھ پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ تو ہم کو صاف طور پر خدا کا چہرہ نہ دکھلا دے۔پھر تم کو بجلی کے عذاب نے پکڑ کر بیہوش کر دیا اور تمہاری حالت مردوں جیسی ہوگئی مگر ہم نے پھر تم سے اُس غشی کو دور کر دیا تا کہ تم شکر کرو۔تری اللہ۔ظاہر۔علانیہ۔بعض طبائع الہامات نبی کوسن کر یہ خواہش کیا کرتی ہیں کہ کاش ہم کو بھی رویاء۔الہام ہونے لگے۔صَاعِقَةٌ۔ایک قسم کی غشی یا مہلک عذاب۔پھر تمہاری اس خطاء سے بھی در گزر کر کے تم پر یہ اپنا فضل کیا کہ تم کو بلاکسی محنت و مشقت برداشت کرنے کے اعلیٰ درجہ کا کھانا اور تمہاری صحت کے لئے جنگل کی تازہ ہوا دی۔تم کو آزاد کیا