حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 13
حقائق الفرقان ۱۳ سُوْرَةُ الْفَاتِحَةِ ہیں۔بعض فار میں (Forms) چھپی ہوئی ہوتی ہیں ان پر صرف سائل کے دستخط کرالیے جاتے ہیں۔اس کی مثال قرآن شریف میں یہ سورۃ ہے جو بطور عرضی کے ہم کو عطا ہوئی۔دوم جولوگ حکام کی پیشی میں بعہدہ سر رشتہ دار وغیرہ ہوتے ہیں وہ کوئی حکم با ضابطہ حاکم کی طرف سے اجازت پا کر لکھ دیا کرتے ہیں وہ بھی اصلی حاکم کا حکم ہی سمجھا جاتا ہے۔اس کی مثال قرآن شریف میں یہ ہے قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا (الزمر: ۵۴) سوم بعض اوقات خود حاکم اپنے پروانہ جات سے براہِ راست حکم سنا دیتا ہے اس کی مثال سارا قرآن کریم علی العموم ہے۔کلام کی ان تین قسموں سے یہ امر بخوبی واضح ہوتا ہے کہ سورۃ فاتحہ میں اور قرآن میں ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اور دیگر دعاؤں وغیرہ کے الفاظ اس لحاظ سے محلِ اعتراض نہیں ہو سکتے کہ جس حالت میں قرآن شریف خدائے پاک کا کلام ہے تو اس میں ایسی عبارتیں کیوں موجود ہیں جو کہ بندوں کی زبانی ہونی چاہیے تھیں۔گویا اس طریق سے خدا تعالیٰ نے ایک ادب اور طریق بارگاہِ عالی میں دعا کرنے کا بتلا دیا ہے۔(البدر جلد نمبر ۱۱ مورخه ۹/جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۸۷) الحمد ایک جامع دعا ہے اور اس کا مقابلہ کوئی دعا نہیں کر سکتی نہ کسی مذہب نہ کسی احادیث کی دعائیں۔تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۳۵،۴۳۴) عمدہ دعا الحمد ہے اس میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ دونوں ترقی کے فقرے موجود ہیں۔(البدر جلد ۱۲ نمبر ۱۸ مورخه ۳۱/اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳) ا کہہ دے اے میرے بندو! جو اپنے نفسوں پر خطا کر بیٹھے ہو۔( ناشر )