حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 219
حقائق الفرقان ۲۱۹ سُورَةُ الْبَقَرَة (۲) عذاب۔ فرمایا ہے اندر تُكُمْ صَعِقَةً مِثْلَ عِقَةِ عَادٍ وَ ثَمُودَ وَثَمُودَ ( حم السجدة : ١٤) (۳) آگ۔ فرمایا - يُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَنْ يَشَاءُ (الرعد: ۱۴) اس بیان سے اتنا معلوم ہو گیا کہ صاعقہ ۔ بیہوشی ، موت ، عذاب اور نار کو کہتے ہیں ۔ دوسرا لفظ قابلِ غورموت کا لفظ ہے ۔ موت کے معنی مجمع البجار میں جو لغت قرآن وحدیث کی جامع کتاب ہے یہ ہیں۔ ا۔ موت کے معنی سو جانا۔ حدیث میں آیا ہے أَحْيَانَا بَعْدَمَا آمَا تَنَا ہے۔ ۲۔ موت کے معنی سکون ۔ کیا معنی؟ حرکت نہ کرنا ۔ مَاتَتِ الرِّيحُ ہو اٹھہر گئی۔ ۳۔موت ،حیات کے مقابلہ ہوا کرتی ہے اور حیات کے معنی میں آیا ہے قوت نامیہ کا بڑھنا ۔ قرآن کریم میں آیا ہے يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ( الحدید: ۱۸) زمین کو اللہ تعالیٰ اُس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے۔ موت کے بعد ۴۔ قوت حسیہ کے زوال پر موت بولتے ہیں۔ قرآن کریم میں آیا ہے يُلَيْتَنِي مِن قَبْلَ هُذَا (مریم: ۲۴) کیا معنی؟ بچہ جننے سے پہلے میری قوتِ حسیہ نہ رہتی کہ درد تکلیف دہ ہوتا۔ ۵ جهل و نادانی کو موت کہتے ہیں ۔ قرآن میں یہ معنے آئے ہیں۔ اوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَهُ (الانعام: ۱۲۳) ۶ ۔ حزن ۔ ۷۔ خوف مکڈر کو موت کہتے ہیں ۔ قرآن میں یہ محاورہ آیا ہے يَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ کوموت ہیں۔ یہ كُلِّ مَكَان (ابراهیم: ۱۸) ہر طرف سے اس پر خوف اور غم آتے تھے۔ ۔ احوال شاقہ ۔ فقر ۔ ذلت ۔سوال کرنا ۔ بڑھاپا۔ ۔ اور معصیت وغیرہ کو موت کہتے ہیں ۔ حدیث میں آیا ہے أَوَّلَ مَنْ مَاتَ ابْلِيس ا میں نے تم کو ڈرایا ہے ایک ایسے عذاب سے جیسے عاد اور ثمود کی قوم پر ہوا تھا۔ ہے وہی بھیجتا ہے گرنے والی بجلیوں کو پھر ان کو گراتا ہے جن پر وہ چاہتا ہے۔ (ناشر) ۳ اُس (خدا) نے ہمارے مرنے ( سوجانے) کے بعد ہمیں زندہ کیا۔ (ناشر) کے بھلا ایک مردہ تھا پھر ہم نے اس میں جان ڈالی ۔ ہے سب سے پہلے جو مرا وہ ابلیس ہے یعنی نافرمانی کر کے روحانی موت مرنے والا پہلا فردا بلیس ہے۔