حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 218 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 218

حقائق الفرقان ۲۱۸ سُورَةُ الْبَقَرَة لے گئے اُس وقت پہاڑ پر آتش افشانی ہو رہی تھی اور بجلیاں اپنی چمک دمک دکھلا رہی تھیں۔جناب موسیٰ علیہ السلام نے حسب ارشاد الہی قوم کو روک دیا تھا کہ پہاڑ کے اوپر کوئی نہ جاوے اور ہم نے ظاہر کا لفظ اس لئے استعمال کیا ہے کہ بائیبل کو قرآن پر پال نے ترجیح دی ہے پس اُس نے بائیبل کو پڑھا ہو گا۔کتاب خروج میں مفصل موجود ہے اور قرآن کریم کے ان کلمات طیبات پر اعتراض کیا ہے۔ا - فَأَخَذَ تَكُمُ الصُّعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُونَ ٢ ثُمَّ بَعَثْنَكُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ - (البقرة: ۵۶،۵۷) پکڑ لیا تم کو کڑک نے اور حال یہ ہے کہ تم دیکھتے تھے۔پھر اٹھا یاتم کو تمہاری موت کے بعد تو کہ تم قدردانی کرو۔صاعقه، صعق سے نکلا ہے۔صعق کے معنی میں لکھا ہے۔الصَّعْقُ أَنْ يُغْشَى عَلَيْهِ مِنْ صَوْتٍ شَدِيدٍ يَسْمَعُهُ وَرُبَّمَامَاتَ مِنْهُ (مجمع البحار) صعق یہ ہے کہ بے ہوشی پڑ جاوے کسی پر کسی سخت آواز سے جس کو اس بے ہوش ہونے والے شخص نے سنا اور کبھی اس سے موت بھی ہو جاتی ہے۔قرآن کریم میں آیا ہے۔وَخَرِّ مُوسى صَعِقَا فَلَمَّا آفَاقَ (الاعراف: ۱۴۴) موسی بے ہوش ہو کر گر پڑے پس جب افاقہ آیا۔پھر مجمع البحار میں لکھا ہے۔يُنتَظَرُ بِالْمَصْعُوقِ ثَلَاثَا مَالَمْ يَخَافُوا عَلَيْهِ نَتَنَا وَهُوَ الْمَغْشَى عَلَيْهِ أَوْ مَنْ يَمُوْتُ فَجَانَةً وَلَا يُعْجَلُ دَفْنُه - جس پر صاعقہ گرے اور اس کو تین دن تک دفن نہ کیا جاوے جب تک سڑ جانے کا ڈر نہ ہو۔اور یہ وہ ہے جس پر غشی ہو یا اچانک مرجاوے دفن میں جلد بازی نہ کی جاوے۔مفردات راغب میں لکھا ہے الصَّاعِقَہ تین قسم کا ہوتا ہے۔(۱) موت۔فرمایا ہے فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّبُوتِ وَ مَنْ فِي الْأَرْضِ (الزمر : ٢٩) ے تو بے ہوش ہو جائیں گے جو آسمان اور زمینوں میں ہیں۔(ناشر)