حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 215 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 215

حقائق الفرقان ۲۱۵ سُورَةُ الْبَقَرَة دو۔جو عام تھے ان کو خدا نے معاف فرما دیا جیسا کہ آگے فرمایا۔فَتَابَ عَلَيْكُمْ - ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخه ۱۸ فروری ۱۹۰۹ صفحه ۱۱) الْفُرْقَان۔جب دشمن کی کمر ٹوٹ جائے۔(تعویذ الاذهان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۳۷) بڑے تعجب کی بات ہے کہ لوگ شرارتیں کرتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں۔موسی نے اپنی قوم کو کہا يُقَومِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمُ انْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ (البقرة : ۵۵) تم نے بچھڑے کو خدا بنالیا اور اپنے او پر ظلم کیا حالانکہ خدا کے تم پر بڑے بڑے احسان ہیں۔فتوبوا إلى بارِ یکھ اپنے پروردگار کی طرف توجہ کرو اور اللہ تعالیٰ نے انسان پر بڑے بڑے فضل و احسان کئے ہیں۔اس کے قابو میں خدا نے ہر ایک چیز کر دی ہے۔ہاتھی جیسا بڑا جانورانگوٹھے کے اشارہ پر چلتا ہے۔اونٹ کو ایک تکمیل کے اشارہ سے چلا لیتا ہے۔اسی طرح پر ہزاروں کام جانوروں سے نکالتا ہے۔طوطے سے توپ بندوق چلوا لیتا ہے۔بعض لوگ احسن تقویم کے یہ معنے کرتے ہیں کہ انسان کو خوبصورت بنایا مگر بعض انسان تو سیاه رنگ اور بدصورت بھی ہوتے ہیں بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ ہر چیز کو اس کے قابو میں کر دیا۔سرکس میں کسی نے تماشا دیکھا ہو گا کہ کیسے کیسے کام جانوروں سے لیتے ہیں۔یہ سب اللہ کے احسان ہیں۔ہر قوم میں غریب سے غریب اور امیر سے امیر لوگ موجود ہیں لیکن اُمراء کو خیال تک نہیں آتا کہ ہم پر بڑا احسان ہوا ہے۔اس زمانہ کا بڑا بچھڑا روپیہ ہے جس کے پاس یہ ہوا اس کی بڑی عزت و توقیر ہوتی ہے۔اگر وہی روپیہ والا انسان غریب ہو جاوے تو اُسے پوچھتا بھی کوئی نہیں۔روپے کے پیچھے خواہ نماز الفضل جلد نمبر ۱۸ مورخه ۱۵ اکتوبر ۱۹۱۳ صفحه (۱۵) روزہ حج جائے مگر کوئی پرواہ نہیں۔عجل۔بچھڑا۔اے بنی اسرائیل ہم نے تو تم کو تمام جہانوں پر فضیلت دی تھی پر تمہاری عقل کو کیا ہو گیا تھا کہ تم نے ایک بچھڑے کو جو تمہارا خادم ہونے کے سوا مخدوم ہونے کی بھی حیثیت نہیں رکھتا تھا البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحه ۵۶) معبود بنا لیا۔پھر ہم نے کہا۔اُقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ یعنی ان لوگوں کو قتل کرو۔جنہوں نے بت پرستی کی۔