حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 214 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 214

حقائق الفرقان ۲۱۴ سُورَةُ الْبَقَرَة الْفُرْقَانَ۔وہ مددجس سے دشمن اور موسیٰ کے درمیان فیصلہ ہوا وہ یہی کہ فرعون غرق ہو گیا اور بنی اسرائیل نجات پاگئے اور عمدہ ملکوں کے وارث ہوئے۔حضرت موسی علیہ السلام ایک زمانہ میں طور پر تشریف لے گئے۔ایک شریر آدمی نے بچھڑا بنایا اور ان لوگوں سے کہا کہ یہی موسی کا معبود تھا وہ بھول کر پہاڑ پر چلا گیا۔تم لوگ غالباً تعجب کرو کہ ایک قوم بچھڑے کو کیونکر خدا ٹھہراسکتی ہے سوئیں تمہیں سناتا ہوں کہ دیکھو آ جکل ہندو کیسے ذہین اور چالاک ہیں پھر بھی پتھروں کو معبود سمجھتے ہیں۔بچھڑے میں تو پھر ایک آواز تھی پتھر میں یہ بات بھی نہیں۔پھر پتھروں پر ہی اکتفا نہیں بلکہ جمنا جی ، گنگاجی اور اس قسم کی کئی ندیوں کی پرستش کرتے ہیں۔خیر یہ تو ہندو ہیں۔مسلمانوں کا حال بھی اچھا نہیں۔لاہور دارالسلطنت ہے اس کی نسبت دارا شکوہ لکھتے ہیں کہ یہاں تیس ہزار حفاظ قرآن شریف موجود ہیں باوجود اس کے پھر علم قرآن ایسا مفقود ہے کہ وہاں بھی گھوڑے شاہ کی خانقاہ ہے۔پھر اس قسم کی ہزاروں قبریں ہیں جن پر ٹلیاں یا رستے چڑھتے ہیں۔اس کی وجہ کیا ہے؟ صرف یہی کہ کوئی قوم خواہ کس قدر اچھی ہو جب بُروں سے اس کا تعلق ہو تو ان کی رسم و عادت نیکوں میں بھی رواج پذیر ہو جاتی ہے۔دیکھو مسلمان جانتے ہیں صبر بھی اچھی چیز ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ بے صبری کا نتیجہ کچھ بھی نہیں اور پھر یہ بھی جانتے ہیں کہ چیخ کر رونا جائز نہیں۔با وجود اس کے شیعہ کو دیکھ کرشتی بھی محترم میں روتے پیٹتے ہیں اور تعزیئے بناتے ہیں۔میں نے تعزیہ بنانے والوں کو پوچھا ہے کہ یہ واقعی امام حسین کی قبر ہے تو وہ کہتے ہیں نہیں۔پھر جب یہ جتایا گیا کہ جو دن امام حسین کے قبر بنانے کا ہے اس دن تم اس قبر کو توڑتے ہو تو وہ بہت نادم ہوئے۔غرض انسان کی غیرت اٹھ جاتی ہے اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔یہاں بنی اسرائیل نے بھی ایسا ہی کیا کہ فرعونیوں میں رہتے رہتے وہ اپنے خدا کو بھول گئے اور گائے کی عظمت ان کے دلوں میں گھر کر گئی اور وہ اس کی پوجا کرنے لگ گئے تو خدا نے فرمایا۔تُوبُوا الى باري تم اپنے گھڑنے والے کی پرستاری کرو۔فَاقْتُلُوا انْفُسَكُم۔اس کے معنے میرے نزدیک یہ ہیں کہ اس جرم کے جو سرغنہ ہیں ان کو قتل کر