حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 210
حقائق الفرقان ۲۱۰ سُورَةُ الْبَقَرَة کام دے جاتی ہے مگر ایک وقت سفارش بھی نہیں مانی جاتی۔مؤاخذہ النبی کا وقت ایسا آتا ہے کہ وَ لَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةُ یہاں شفاعت کی مطلق نفی نہیں ہے کیونکہ الّا یا ذیہ کا استثناء دوسرے مقام پر موجود ہے۔وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى (الانبیاء: ۲۹) قرآن میں آ چکا ہے۔دیکھو یہودیوں پر ایک وقت آیا کہ لَبِن أُخْرِجُتُم لَنَخْرُجَنَ مَعَكُمْ وَلَا نُطِيْعُ فِيْكُمْ أَحَدًا اَبَدًا وَ إِنْ قُوتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُم (الحشر: ١٢) کہنے والے بھی کچھ بھی اُن کے کام نہ آ سکے۔(۱۲: ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخه ۱۸ / فروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۱) اللہ تعالیٰ کے انعام یاد کر کے مومن اس بات کو سوچے کہ ایک وقت آتا ہے۔وَاتَّقُوا يَوْمًا۔ایک وقت آتا ہے کوئی دوست، آشنا، اپنا برگا نہ کچھ کام نہیں آتا۔دُنیا میں نمونہ موجود ہے انسان بیمار ہوتا ہے تو ماں باپ بھی اس کی بیماری کو نہیں بٹا سکتے۔یہ نمونہ اس بات کا کہ یہ سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی پکڑ کے وقت کوئی کام نہیں آتا۔کسی کی سپارش اور جرمانہ کام نہیں آتا اس لئے اُس دن کے لئے آج سے ہی تیارر ہو۔پس خدا تعالیٰ کے فضل کو یاد کر کے محبت الہی کو زیادہ کرو اور غفلتوں اور کمزوریوں کو چھوڑ دو اور اپنے وعدوں پر لحاظ کرو کہ دین کو دُنیا پر مقدم رکھیں گے۔“ رنج و راحت، عسر ئیسر میں قدم آگے بڑھائیں گے۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور بھائیوں سے محبت کریں گے۔پھر کہتا ہوں کہ یہ بڑی خطرناک بات ہے کہ جو وعدوں کے خلاف کرتا ہے وہ منافق ہوتا ہے۔جھوٹ اور وعدوں کی خلاف ورزی کرتے کرتے انسان کا انجام نفاق سے مبدل ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ مجھ کو اور آپ کو اس سے بچائے اور صدق، اخلاص اور اعمال حسنہ کی توفیق دے۔آمین الحکم جلد ۳ نمبر۷ مورخه ۳ مارچ ۱۸۹۹ صفحه ۶) لا تَجْزِى نَفْسٌ عَن نَّفْسِ۔جب مدینہ کے بنی اسرائیل کو بہکا یا تو وہ جلا وطن ہوئے یقینا یہی دن مراد ہے۔قیامت کا ذکر نہیں۔تفخیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۳۷) لے اور اللہ جن سے راضی نہیں وہ ان کی شفاعت نہیں کرتے۔۲۔اگر تم نکال دیئے جاؤ گے ملک سے تو ہم بھی ضرور نکل کھڑے ہوں گے تمہارے ساتھ اور ہم تو تمہارے مقدمہ میں کبھی کسی کی بات نہ مانیں گے اور اگر تم سے لڑائی ہونے لگے گی تو ہم ضرور تمہاری مددکریں گے۔(ناشر)