حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 12
حقائق الفرقان ۱۲ سُورَةُ الْفَاتِحَة بتائے ہیں۔اَنْتُمُ الْفُقَرَاءِ إِلَى اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ۔(فاطر: ۱۲) تم سب محتاج ہو۔غیر محتاج صرف اللہ کی ذات ہے۔خلاصہ تمام کلام الہی کا کیا ہے غرض اللہ کے لفظ کے جو معنی ہیں کہ ساری خوبیوں والا اور ساری برائیوں سے منزہ اور پاک، معبود حقیقی ، اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت ناجائز ہے۔یہ خلاصہ ہے تمام کلام الہی کا اور اسی کا ذکر ہر رکوع بلکہ ہر آیت میں ہے۔بعض کتابوں میں اللہ کا ذکر تک نہیں ہوتا بخلاف اس کے دیگر کتا بیں ہیں کہ ان کے صفحے کے صفحے پڑھ جاؤ، ان میں خدا کا نام تک نہ نکلے گا۔بائبل میں ایک کتاب ہے۔اس میں اللہ کا ذکر ضمیر کے رنگ میں بھی نہیں حالانکہ اسے بھی کتب مقدسہ میں سے سمجھتے ہیں۔مگر قرآن مجید میں تو کوئی رکوع ایسا نہیں جہاں عظمت الہی کا ذکر نہ ہو۔الفضل جلد ا نمبر ۸ مورخه ۶ /اگست ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) اس سورۃ شریف کا نام اُمّ الکتاب اور سبع من المثانی بھی ہے۔یہ سورۃ شریف ایک متن ہے اور قرآن شریف اس کی تفسیر ہے۔کلام کی تین اقسام ہیں۔اوّل بعض نا فہم اور نا خواندہ لوگ اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ سر کار و دربار میں کس طرح اور کس مضمون کی درخواست دی جاوے تو اس لئے کوئی دوسرا شخص جو در بار کے آداب اور قانون سے واقف ہو تو اگر وہ ایسی عرضی لکھ دیوے یا وہ مضمون بتلا دیوے جس کی دربار میں شنوائی ہو سکے اور اگر چہ مدعا اور آرزو اسی سائل کا اپنا ہوتو ایسے بتلانے والے اور لکھ دینے والے کو مجرم نہیں قرار دیا جاتا۔دنیاوی گورنمنٹ جو کہ آسمانی گورنمنٹ کا ظل ہوتی ہے ان میں بھی ایسے قواعد ہوتے لے اے لوگو تم سب فقیر ہوا اللہ کی طرف اور اللہ ہی غنی اور بے پروا تعریف کیا گیا ہے۔( ناشر )