حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 204
حقائق الفرقان ۲۰۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة أَفَلَا تَعْقِلُونَ۔یہ غلط ہے جو کہا گیا ہے کہ عقل جو ہر ہے۔عقل جو ہر نہیں بلکہ ایک صفت ہے۔قرآن شریف میں آیا ہے۔لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا - (الحج : ۴۷) عقل کے معنے ہیں روکنا اور باندھنا۔جو شخص حکم سن کر پھر نہیں رکھتا وہ لا یعقل ہے۔( البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۷ /اکتوبر ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۹) ۴۶ ۴۷ - وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ ۖ وَ إِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلْقُوا رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - ترجمہ۔اور نیکیوں پر ہمیشگی اور بدیوں سے بچنے اور دعائیں کرنے پر مضبوط رہو اور صبر اور دعا کرنا بڑی باتیں ہیں مگر دل سے ڈرنے والوں کے لئے (نہیں)۔جو یقین رکھتے ہیں کہ انہیں اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے اور یقینا یقینا اس کی طرف لوٹ جانا ہے۔تفسیر۔اِنگا کی ضمیر مؤنث ہے جو صبر و صلوۃ کی طرف پھرتی ہے۔عربوں میں قاعدہ ہے کہ مذگر و مؤنث مل جاویں تو مذکر کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اگر علیحدہ مؤنث و مذکر کو ضمیر پھیر نا ہو تو مؤنث ہوگا۔قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا وَ الَّذِينَ يَكْذِرُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا۔(التوبة: ٣٤) ها ضمير فِضَّة کے لحاظ سے مؤنث آیا ہے حالانکہ اشارہ دونوں کی طرف ہے۔یہ انگریزوں میں بھی رواج ہے کہ ہاتھ ملانے ، خطاب کرنے میں عورتوں کو مقدم کرتے ہیں۔عرب کے شعراء کا بھی یہی مسلک ہے ایک شعر ہے وَمَا ذِكرُ الرَّحْمَن يَوْمًا وَ لَيْلَةً مَلَكْنَاكَ فِيهَا لَمْ تَكُنْ لَيْلَةُ الْبَدْرِ الَّذِينَ يَظُنُّونَ۔یقین کرتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخه ۱۸ار فروری ۱۹۰۹ صفحه ۱۰) اسْتَعِينُوا بِالصَّبْر میں بھی صبر کے معنے روزے کے کئے گئے ہیں۔روزے کے ساتھ دُعا (البدر جلد ۸ نمبر ۳۳، ۳۴ مورخه ۱۷رجون ۱۹۰۹ء صفحه ۲) قبول ہوتی ہے۔لے ان کے دل ایسے ہوتے کہ وہ ان سے سمجھتے۔(ناشر) سے اور جو لوگ جمع کرتے ہیں خزانے سونے اور چاندی کے اور ان کو خرچ نہیں کرتے سے الرحمن کا ذکر دن رات رہا اور کوئی پورے چاند کی رات ایسی نہ تھی جس میں ہم نے تجھے اپنے قبضہ میں نہ لیا ہو۔( تیرا ذکر غالب نہ رہا ہو ) (ناشر)