حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 203
حقائق الفرقان ۲۰۳ سُورَةُ الْبَقَرَة جواب۔رکوع رکعت کا درمیانی حصہ ہے۔الفاظ رکوع اور رکعت ایک ہی مادہ سے نکلے ہیں۔رکعت میں کھڑا ہونا، بیٹھنا، سجدہ کرنا اور رکوع کرنا سب شامل ہے۔جو شخص نماز باجماعت میں رکوع میں آکر مل جائے اس کی رکعت ہو جاتی ہے سجدہ میں آکر ملنے سے وہ رکعت نہیں ہوتی۔اس واسطے جماعت نماز کی تاکید کے وقت رکوع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔(البدر جلد ۱۳ نمبر ۱ مورخه ۶ / مارچ ۱۹۱۳ء صفحه ۳) ۴۵۔اَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الكتب أَفَلَا تَعْقِلُونَ - ترجمہ۔بھلا کیا تم دوسروں کو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنے آپ کو بھولے جاتے ہو حالانکہ تم کتاب بھی پڑھتے رہتے ہو پھر کیا تم کو کچھ بھی عقل نہیں ہے۔تفسیر۔اَتَا مُرُونَ النَّاسَ۔ایسے نہ بنو کہ لوگوں کو تو نیکی کا حکم کرو اور اپنے تئیں ترک کر دو۔تنسون کے معنے ترک کر دینے کے ہیں۔قرآن شریف میں ایک جگہ آیا ہے نَسُوا الله فَنَسِيَهُمْ (التوبة: ٦٧) ۶۷) أفَلَا تَعْقِلُونَ۔تم کیوں نہیں رکھتے۔عقل ایک صفت ہے جس سے انسان اپنے تئیں بدیوں سے روک سکتا ہے۔یہ دو گروہ ہوئے۔ضعفاء اور علماء۔اب تیسرے گروہ کا ذکر آتا ہے یہ امراء کا گروہ ہے۔ہمارے ملک میں ان لوگوں کے لئے تو گویا کوئی شریعت ہی نہیں اور نہ کوئی واعظ ہے۔ہر قسم کی بدی ان کے لئے مباح ہے۔ان کی مجلسوں والے نرے خوشامدی ہیں۔ایک امیر نے بینگن کی تعریف کی۔حاضرین مجلس نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔دوسرے دن اُس نے بینگن کی مذمت کی تو وہ بھی مذمت کرنے لگا۔ایک دوست نے کہا کہ یہ کیا؟ کہنے لگا میں تو امیر کا نوکر ہوں بینگن کا نوکر نہیں۔پس امراء کو خصوصیت سے حکم دیتا ہے کہ روزے رکھو، نماز پڑھو۔یہ طریق مشکل ہے مگر خشوع اختیار کرنے والوں کو نہیں۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخه ۱۸ رفروری ۱۹۰۹ء صفحه ۱۰) لے انہوں نے اللہ کو چھوڑ دیا تو اللہ نے بھی ان کو چھوڑ دیا۔