حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 202
حقائق الفرقان ۲۰۲ سُورَةُ الْبَقَرَة ہے کہ تم دوسروں کو نیکی کی نسبت کہتے ہو اور اپنے تئیں بھلاتے ہو۔پس تم دونوں سنانے والے اور سننے والے ثابت قدمی سے کام لو اور دُعا کرو۔نماز پڑھو کہ یہ دونوں کام خاشعین پر گراں نہیں۔جن کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کا یقین ہو وہی حقیقی خشوع کر سکتے ہیں۔البدر جلد ۸ نمبر ۵ مورخه ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۸ء صفحه ۲) وَإِقَامِ الصَّلوة - صبح کا وقت ہے اور سردی کا موسم ہے۔رات کو احتلام ہو گیا ہے اور صبح کی اذان ہوئی ہے۔نماز پڑھنی ہے۔پھر چستی سے اٹھ کر ٹھنڈے پانی سے غسل کرتا اور نماز میں جا کر شامل ہوتا ہے۔علیٰ ہذا القیاس۔عشاء کا وقت ہے یا عصر کا وقت ہے کہ دوکان پر خریداروں کا جمگھٹا لگا ہوا ہے کہ مسجد سے اذان کی آواز آئی ہے۔اور یہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مسجد کو دوڑتا ہے۔اسی واسطے صبح اور عشاء کی نماز میں منافق کسل کا ہلی کرتا ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۱۱) اللہ تعالیٰ ان آیات میں اپنے احسانات یاد دلاتا ہے کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ اپنے احسان کرنے والے کا شکر گذار ہوتا ہے اور اس کی فرمانبرداری کرتا ہے اور اس کو خوش رکھنا اپنا فرض جانتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ انسان کو کہتا ہے کہ تم خدا کے ناشکرے کس طرح بنتے ہو۔اپنا حال تو دیکھو تم مُردہ تھے ، بے جان ذرات تھے، تمہارا نام و نشان نہ تھا خدا نے تمہیں زندہ، جاندار بنا یا پھر تم مر جاؤ گے پھر زندہ کئے جاؤ گے اور خدا کی طرف پھیرے جاؤ گے۔۔پھر احسان الہی کو یاد کرو کہ اس نے زمین کی تمام اشیاء تمہارے فائدہ کے واسطے بنا ئیں۔پھر تم زمین سے لے کر آسمان تک بلکہ عرش تک نگاہ ڈالو ہر امر میں خدا تعالیٰ کے تمام کاموں کو حق و حکمت سے پُر پاؤ گے۔کوئی بات ایسی نہیں ہے جس میں کوئی کمزوری یا خرابی نگاہ میں آ سکے اور خدا سب باتوں کا علیم ہے وہ تمہارے افعال کو دیکھ رہا ہے اور اُن سے باخبر ہے۔(البدر جلد نمبر ۳۵ مورخه ۱۷ رستمبر ۱۹۰۸ ء صفحه ۲) واركعوا سوال نمبر ۳۔نماز با جماعت کی تاکید میں وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ (البقرة: ۴۴) کا ارشاد ہوا ہے۔وَاسْجُدُوا وغیرہ نہ ہونے کی مصلحت اور حکمت کیا ہے؟