حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 201
حقائق الفرقان ۲۰۱ سُورَةُ الْبَقَرَة کو ٹھیک درست رکھو اور زکوۃ دیا کرو اور اللہ کے سامنے جھکنے والی جماعتوں کے ساتھ تم بھی جھکو۔تفسیر۔دُنیا میں ایک فرقہ ایسا بھی ہے کہ راستبازی ان کی فطرت میں داخل ہوتی ہے۔ایک فرقہ وہ ہے جو حق کو باطل کے ساتھ ملا دیتا ہے اور پھر اپنے تئیں سچا ثابت کرنے کے لئے حق کو چھپا دیتا ہے۔بچے کا حال بیج کی مانند ہے کہ تم اچھا ہو پر زمین اچھی نہ ہو۔زمین اچھی ہو تو آب پاشی نہ ہو۔آب پاشی ہو تو حفاظت نہ ہو۔پس خوش قسمت انسان کو نیک ماں باپ، نیک ہم نشین ، عمدہ تربیت و نگرانی حاصل ہوتی ہے۔البدر جلد ۸ نمبر ۵ مورخه ۱۰ر دسمبر ۱۹۰۸ء صفحه ۲) انتُم تَعْلَمُونَ۔جب کہ تم پر حق واضح ہو چکا ہو۔یہ سب علماء سے خطاب ہے کیونکہ ایسے لوگ علماء میں بہت ہیں۔مثلاً ایک امیر شیعہ نے ایک عالم سے پوچھا کہ کربلا جانا بہتر ہے یا مکہ جانا۔اُس نے جواب دیا مکہ کے واسطے تو زادراہ اور امن کی شرط ہے اور کربلا کے واسطے یہ شرط نہیں۔اوہ! کربلا کی اتنی عظمت اور اس کی طرف اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر جانا سمجھ کر سُبحان اللہ پڑھتا چلا گیا۔بعد میں کسی دوست نے پوچھا کہ کیوں حضرت یہ کیا فرمایا۔کہنے لگے کہ اس نے دھوکہ کھایا۔میرا مطلب یہ تھا کہ کربلا جانا ثابت ہی نہیں۔دیکھو اگر اسے حق کہنا منظور ہوتا تو ایسے مشتبہ لفظ نہ بولتا۔پھر فرمایا کہ نمازیں سنوار سنوار کر پڑھو اور زکوۃ دیتے رہو۔میں نے بہت کم عالموں کو زکوۃ دیتے دیکھا ہے۔ان میں زکوۃ کا رواج کم ہے۔ارْكَعُوا - فرمانبرداروں کے ساتھ ہو جاؤ۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۷ ۱ مورخه ۱۸ / فروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۰) أقِيمُوا الصَّلوةَ۔نماز کو قائم کرو۔بعض کام روزمرہ کی عادت بن جاتے ہیں۔پھر ان کا لطف نہیں رہتا۔دیکھا گیا ہے کہ زبان سے اللهم صل علی ہو رہا ہے مگر قلب کی توجہ کام کی طرف ہے۔پس نماز کوسنوار کر پڑھو اور جو معاہدہ نماز میں کرتے و عملی زندگی میں اس کا اثر دیکھو۔زبان سے کہتے ہو ايَّاكَ نَعْبُدُ ہم تیرے فرمانبردار ہیں مگر کیا فرمانبرداری پر ثابت قدم ہو؟ پھر واعظوں کو ڈانٹا