حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 11
حقائق الفرقان 11 سُوْرَةُ الْفَاتِحَةِ الحمد شریف پڑھ کر اس کا علاج کیا تھا اور اُسے شفا ہوگئی تھی۔ایسا ہی ابن قیم نے لکھا ہے کہ جب میں مکہ معظمہ میں تھا اور طبیب کی تلاش میرے واسطے مشکل تھی تو میں اکثر الحمد کے ذریعہ اپنی بیماریوں کا علاج کر لیا کرتا تھا۔ابن قیم کا میں بہ سبب اس کے علم کے معتقد ہوں اور اسے ایسا آدمی جانتا ہوں جو لاکھوں میں ایک ہوتا ہے۔میرا اپنا بھی تجربہ ہے کہ میں نے بہت سے بیماروں پر الحمد کو پڑھا اور انہیں شفا ہوئی۔میں چاہتا ہوں کہ لوگ سوچ سوچ کر الحمد کو نماز میں پڑھا کریں اور اس سے فائدہ اُٹھائیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ فروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۲،۱) سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے خواہ آدمی امام کے پیچھے ہو۔دن کی نمازوں میں یا رات کی نمازوں میں۔قرآن شریف کی کوئی آیت اس کے مخالف نہیں نہ کوئی حدیث اس کے مخالف ہے۔البدر جلد ۱۱ نمبر ۳۲ مورخه ۲۳ مئی ۱۹۱۲ صفحه ۳) الحمد اُم القرآن ہے یہ ایک سچی اور پکی بات ہے۔الحمد شریف کے اندر تمام قرآن اللہ نے درج فرمایا ہے۔الحمد شریف گویا خلاصہ ہے قرآن مجید کا۔اللہ تمام اسماء حسنیٰ کا جامع ہے اللہ کے جس قدر نام ہیں اللہ کے ماتحت ہیں، اللہ کا لفظ بیان فرما کر پھر صفات کاملہ کا بیان ہوتا ہے۔اس واسطے اللہ کے معنوں کے نیچے ایک تو یہ بات ہے کہ وہ ساری خوبیوں کا جامع ہے۔جہاں تنزیہ کا ذکر ہے وہاں اللہ کا ذکر لا کر یہ ذکر کرتا ہے کہ ہر عیب سے پاک ہے۔ان دو باتوں کے بعد فرماتا ہے۔لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ ( حم السجدة : ۳۸) چونکہ وہ سارے محامد کا جامع اور ہر قسم کے عیب و نقص سے منزہ ہے اس لئے اس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔پھر اللہ کی صفت صمد ہے۔صمد کے معنے خود ہی دوسرے مقام پر کھول کر ے تم سجدہ کر وسورج کو نہ چاند کو اور سجدہ کرو اللہ ہی کو جس نے ان کو پیدا فرمایا۔( ناشر )