حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 189
حقائق الفرقان ۱۸۹ سُورَةُ الْبَقَرَة موافق خدا کی رضا کے لئے خرچ کرتا ہوں پھر وہ کون سی بات ہو سکتی تھی کہ میں پیر بننے کی خواہش کرتا۔اب خدا تعالیٰ نے جو چاہا کیا اس میں نہ تمہارا کچھ بس چلتا ہے اور نہ کسی اور کا۔اس لئے تم ادب سیکھو کیونکہ یہی تمہارے لئے بابرکت راہ ہے تم اب اس حبل اللہ کو مضبوط پکڑ لو یہ بھی خدا ہی کی رسن ہے جس نے تمہارے متفرق اجزا کو اکٹھا کر دیا ہے۔پس اسے مضبوط پکڑے رکھو۔تم خوب یاد رکھو کہ معزول کرنا اب تمہارے اختیار میں نہیں۔تم مجھ میں عیب دیکھو آگاہ کر دومگر ادب کو ہاتھ سے نہ دو۔خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں یہ خدا تعالیٰ کا اپنا کام ہے۔اللہ تعالیٰ نے چار خلیفے بنائے ہیں آدم کو، داؤد کو اور ایک وہ خلیفہ ہوتا ہے جو لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ ( النور :۵۶) میں موجود ہے اور تم سب کو بھی خلیفہ بنایا۔پس مجھے اگر خلیفہ بنایا ہے تو خدا نے بنایا ہے اور اپنے مصالح سے بنایا ہے خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے خلیفہ کو کوئی طاقت معزول نہیں کر سکتی۔اس لئے تم میں سے کوئی مجھے معزول کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے معزول کرنا ہوگا تو وہ مجھے موت دے دے گا (اللَّهُمَّ ايْدِ الْإِسْلَامَ وَالْمُسْلِمِيْنَ بِبَقَائِهِ وَطُوْلِ حَيَاتِهِ۔ایڈیٹر ) تم اس معاملہ کو خدا کے حوالہ کرو تم معزول کی طاقت نہیں رکھتے میں تم میں سے کسی کا بھی شکر گزار نہیں ہوں۔جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ ہم نے خلیفہ بنایا مجھے یہ لفظ بھی دکھ دیتا ہے کہ جو کسی نے کہا کہ پارلیمنٹوں کا زمانہ ہے دستوری حکومت ہے ایران اور پرتگال میں بھی دستوری ہو گئی ہے۔ترکی میں پارلیمنٹ مل گیا۔میں کہتا ہوں وہ بھی تو بہ کر لے جو اس سلسلہ کو پارلیمنٹ اور دستوری سمجھتا ہے۔کیا تم نہیں جانتے کہ ایران کو پارلیمنٹ نے کیا سکھ دیا اور دوسروں کو کیا فائدہ پہنچایا ہے۔ترکوں کو پارلیمنٹ کے بعد کیا نیند آتی ہے؟ ایرانیوں نے کیا فائدہ اٹھایا۔محمد علی شاہ کے سامنے کتنوں کو غارت کرایا اور اب پچھلوں کو الٹی میٹم آتے ہیں۔ادھر انجمن ترقی واتحاد جو دکھ اٹھا رہی ہے اس کا اندازہ ان خبروں سے کر لو جوطرابلس سے آ رہی ہیں۔تم دستوری کو کیا سمجھتے ہو خدا ہی کے فضل سے اور اسی کے رسن کو مضبوط پکڑے رہنے سے کچھ بنتا ہے۔اس لئے میں لے ان کوضرور خلیفہ بنائے گا زمین میں سے اے اللہ آپ کی بقا اور لمبی زندگی کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کی تائید و نصرت فرما۔