حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 188
حقائق الفرقان ۱۸۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة جابر، ابن عمر ، سید نا علی اور جماعت صحابہ اور تابعین اور من بعدھم سے مروی ہے۔کیونکہ جس مکان پر کسی سے غلطی ہوتی ہے وہ منحوس جگہ اس قابل نہیں ہوتی کہ محتاط لوگ وہاں رہیں۔علاوہ بریں ایسے مکان سے ہجرت کرنا آئندہ کے واسطے ہشیار اور خبر دار بنادیتا ہے۔تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۱۰،۱۰۹) خلیفہ امسیح کا اعلان خلافت۔میں اس مسجد میں قرآن ہاتھ میں لے کر اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے پیر بننے کی خواہش ہرگز نہیں اور نہ تھی اور قطعا خواہش نہ تھی۔خدا تعالیٰ کے منشاء کو کون جان سکتا ہے اس نے جو چاہا کیا تم سب کو پکڑ کر میرے ہاتھ پر جمع کر دیا اور اس نے آپ نہ تم میں سے کسی نے مجھے خلافت کا کرتہ پہنا دیا۔میں اس کی عزت اور ادب کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں باوجود اس کے میں تمہارے مال اور تمہاری کسی بات کا بھی روادار نہیں اور میرے دل میں اتنی بھی خواہش نہیں کہ کوئی مجھے سلام کرتا ہے یا نہیں۔تمہارا مال جو میرے پاس نذر کے رنگ میں آتا تھا اس سے پہلے اپریل تک میں اسے مولوی محمد علی کو دے دیا کرتا تھا مگر کسی کو غلطی میں ڈالا اور کہا کہ یہ ہمارا روپیہ ہے اور ہم اس کے محافظ ہیں۔تب میں نے محض خدا کی رضا کے لئے اس روپیہ کو دینا بند کر دیا کہ میں دیکھوں یہ کیا کر سکتے ہیں؟ ایسا کہنے والے نے غلطی کی نہیں بے ادبی کی۔اسے چاہئے کہ وہ توبہ کرلے میں پھر کہتا ہوں کہ وہ توبہ کرلے، اب بھی تو بہ کر لیں۔ایسے لوگ اگر تو بہ نہ کریں گے تو ان کے لئے اچھا نہ ہو گا۔ایک وقت مجھ سے کسی نے جھگڑا کیا اس وقت کے بعد سے میں ایسے اموال ان کو دیتا نہیں جو مخصوص مجھے ہی دیئے جاتے ہیں۔ہاں میں انہیں ایک مد میں رکھتا ہوں اور اسے ایسی جگہ خرچ کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہ ہو۔میں اپنی ذات اور اپنے متعد نے متعلقین کے لئے تمہارے کسی روپیہ کا محتاج نہیں ہوں اور کبھی بھی خدا تعالیٰ نے مجھے کسی کا محتاج نہیں کیا۔وہ اپنے غیب کے خزانوں سے مجھے دیتا ہے اور بہت دیتا ہے اور میں اب تک وہ کسب کر لیتا ہوں جو خدا تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔یاد رکھو میں پھر کہتا ہوں کہ میں تمہارے اموال کا محتاج نہیں ہوں اور نہ تم سے مانگتا ہوں تم میرے پاس اگر کچھ بھیجتے ہو تو اسے اپنے فہم کے