حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 187 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 187

حقائق الفرقان ۱۸۷ سُورَةُ الْبَقَرَة البدر - ۱۸ / جولائی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۷ جلد ۱۲ نمبر ۳) انسان ہدایت کی اطاعت کرتا ہے وہ کبھی خوف وحزن میں مبتلا نہیں ہوسکتا اور الہی ہدایت ہمیشہ دنیا میں آتی رہتی ہے۔حزن گذشتہ کا خوف ہوتا ہے اور خوف آئندہ کے نقصان کے لئے ہوتا ہے۔اسی خوف وحزن پر ساری دوستیوں اور مخلوق کا مدار ہے۔اللہ جلشانہ فرماتا ہے کہ خوف اور حزن سے بچنے کی ایک راہ ہے اور وہ اتباع ہدایت۔فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِنَى هُدًى سے ظاہر ہوتا ہے۔میری طرف سے ہدایت نامے ملا کریں گے۔ہدایت نامہ تو ایک ہی ہوتا ہے مگر زمانہ کی نیرنگیاں ، نئی تعلیم ، ترقی ، تنزل، زبان کی حالت چاہتی ہے کہ پیرایہ جدید ہو۔اس لئے فرماتا ہے مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذَكَرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ محدث الانبیاء : ۳)۔یہ معلم فطرت کو جگانے کے لئے آتے ہیں۔اس لئے ان کا نام ذکر ہوتا ہے وہ آکر فطری قومی کو جگاتے ہیں۔آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے اور اس پر فضل ہوا اور اللہ نے حکم دیا کہ اب جب کبھی ہماری ہدایت پہنچے جو اس کے تابع ہو گا اس پر کسی قسم کا خوف وحزن طاری نہ ہوگا اور جو حکم کی خلاف ورزی کرے گا اسے نقصان پہنچے گا تم سب دل میں سوچو کیا تمہارا جی چاہتا ہے کہ تمہیں غم ہو خوف ہو۔عموں اور خوفوں سے بچنے کا ایک ہی علاج ہے وہ یہ کہ ہدایت کی اتباع کروا گر نہیں کرو گے تو دُکھ اُٹھاؤ گے۔الفضل جلد نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔خدا تعالیٰ کی ہدایت پر چلنے والوں کا یہ نشان بتلایا گیا ہے کہ ان پر حزن وخوف نہیں۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ والی دعا کا یہ نتیجہ ہے۔یہ آیت قابل نوٹ ہے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنی حالت کو اس کے مطابق پر کھیں اور دیکھیں کہ آیا وہ اس درجے کو پہنچے ہیں یا کہ نہیں۔کیا مسلمانوں میں اب خوف وحزن نہیں۔اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا - (البقرة:٣٩) البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۷ اکتوبر ۱۹۱۲ صفحه ۳۹) یہ حکم اللہ تعالیٰ کے فضل کا نشان تھا۔حضرت آدم غالباً ہند بلکہ سراندیپ میں چلے آئے جیسے لے اُن کے پاس نہیں آئی کوئی نصیحت اُن کے رب کی طرف سے نئی۔۲۔یہاں سے سب کے سب نکل جاؤ۔( ناشر )