حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 186
حقائق الفرقان ۱۸۶ سُورَةُ الْبَقَرَة اهبطوا۔میرا ایمان ہے کہ یہ سزا نہیں۔آدم نے خدا سے کچھ باتیں سیکھیں جیسے حضرت ابراہیم نے وَ اِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِم رَبُّهُ بِكَلِمَةٍ فَاتَتَهُنَّ (البقرۃ:۱۲۵) یعنی کچھ احکام دیئے جن کو ابراہیم نے پورا کیا تو امام بنایا گیا۔اسی طرح خدا نے حضرت آدم کو درجات عطا فرمائے۔هُوَ التَّوَابُ الرَّحِيمُ کے بعد قُلْنَا اهْبِطُوا فرما نا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بطور سزا ہر گز نہیں۔یہ قرآن شریف کے سیاق کے بالکل خلاف ہے۔فَإِمَّا يَأْتِينَكُم مِنّى هُدًى - ہمارا ہدایت نامہ جب آئے تو قاعدہ یا درکھو جو تابع ہوگا اس پر کوئی خوف و حزن نہیں۔ہر زمانے میں ایک تغیر آتا ہے اس تغیر میں ایک قوم خوف و حزن میں ہوتی ہے۔رسول کریم جب مبعوث ہو کر پبلک میں آئے تو لا الهَ إِلَّا الله کا وعظ کیا۔اس وقت دو مذہب تھے ایک موحد دوسرے بت پرست۔ان میں سے جو مشبع تھے حضرت نبی کریم کے وہ کامیاب ہوئے اور سارے عرب کو ساتھ ملا لیا مگر کا فراسی خوف و حزن میں رہے۔عبداللہ بن اُبی اور ابو جہل کو تھوڑا رنج نہ تھا اور پھر کفار کو کتنا خون ہوا ہو گا جبکہ دونوں کے بیٹے مسلمان ہو گئے۔غرض جو فرمانبرداری اختیار کرتے ہیں وہ سکھ پاتے ہیں اور جو مقابلہ کرتے ہیں وہ اصحاب النار جل بھن کے کباب ہو جاتے ہیں۔ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ مومنون کو بھی خوف و حزن ہوتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ مومنوں کے لئے یہ وعدہ ہے وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِم آمنا (النور:۵۶)۔غرض یہ خوف و حزن ایک فریق کے لئے کامیابی کا موجب ہوتا ہے تو دوسرے کے لئے نا کامی کا۔( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخه ۱۸ رفروری ۱۹۰۹ء صفحه ۹) : اسلام نے اس سورۃ میں اَنْعَمتَ عَلیہم کی راہ کی ہدایت کی دعا سکھائی ہے اور پھر ہدایت۔عمل سے بھی یہی بتایا اور کہا۔اِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة :٣٩) - عمل بڑا کارخانہ ہے اور دنیا ایک عملی دنیا ہے جو لے اور ان کو خوف کے بدلے میں امن عنایت فرمائے گا۔۲ پھر جب جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت نامے آتے رہیں گے اُس اُس وقت جو جو شخص اُن میرے ہدایت ناموں کی پیروی کرنے گا اُسے کسی قسم کا نہ آئندہ خوف ہوگا اور نہ گزشتہ ہی عمل کے لئے وہ نمگین ہوگا۔(ناشر)