حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 185
حقائق الفرقان ۱۸۵ سُورَةُ الْبَقَرَة الكفِرِينَ (البقرة: ۳۵) جب تک اس میں انکار و استکبار تھا وہ ابلیس تھا لیکن جب اس کا ضرر متعدی ہوا اور فَازَلَهُمَا الشَّيْطَنُ عَنْهَا (البقرۃ: ۳۷) اس کی شان ہوئی ، دوسروں کو بہکانے لگا تو پھر اسے شیطان فرمایا۔ سارے قرآن مجید میں خوب غور کر کے دیکھ لو جہاں جہاں ابلیس آیا ہے وہاں اس کا ضر ر ا پنی ذات میں ہے اور جہاں اس کا ضرر دوسروں تک پہنچا تو نام شیطان ہے۔ احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کا لفظ بہت وسیع ہے۔ آپ نے ایک باز کو کبوتری کے پیچھے جاتا دیکھ کر فرمایا ۔ شَيْطَانُ يَتَّبِعُ شَيْطَانَةً (سنن ابي داؤد كتاب الادب باب اللعب بالحمام) النساء حَبَائِلُ الشَّيْطَانِ (اعتلال القلوب للخرائطى باب ذكر من فتنة النساء عن طاعة الله جلد 1 صفحه ۱۰۳ طبع الثانيه رياض)۔ غرض ظلمت کے مظاہر شیاطین ہیں اور نور کے مظاہر ملائکہ۔ البدر جلد ا ا نمبر ۱۰ مورخہ کے ردسمبر ۱۹۱۲ء صفحہ (۲) عدو ۔ میں بھی اپنے دوستوں کو تاکید کرتا ہوں کہ چوکس ہوکر رہو۔ مومن کو چاہئے کہ دشمن سے علق کبھی بے خبر نہ ہو۔ البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۷ را کتوبر ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۹) ۳۸، ۳۹ فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَّبِّهِ كَلِمَةٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ - قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا ۚ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ - ترجمہ ۔ پھر آدم کو اللہ کی طرف سے کچھ باتیں القا ہوئیں اور اللہ نے رجوع برحمت فرمایا آدم پر کیونکہ البتہ وہ تو تو بہ کرنے والوں کو بڑا معاف کرنے والا سچی کوشش کا بدلہ دینے والا ہے۔ (اس کے بعد ) ہم نے آدم اور اُس کی نسل کو حکم دیا کہ اس (فساد کی ) جگہ سے تم سب کے سب چلے جاؤ پھر جب جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت نامے آتے رہیں گے اُس اُس وقت جو جو شخص اُن میرے ہدایت ناموں کی پیروی کرے گا اُسے کسی قسم کا نہ آئندہ خوف ہوگا اور نہ گذشتہ ہی عمل کے لئے وہ غمگین ہوگا۔ لے تو ابلیس کے سوا سب نے حکم مانا۔ (ابلیس نے جو کافر تھا ) آدم کا انکار کر دیا اور اسے اپنے سامنے بیچ سمجھا اور وہ حق پوش تھا۔ ۲ پھر شیطان نے ان کو اس درخت کے ذریعہ سے پھسلانا چاہا۔ (ناشر)