حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 184
حقائق الفرقان ۱۸۴ سُورَةُ الْبَقَرَة پورب کی طرف نود کی سرزمین میں جارہا۔( پیدائش ۴ باب (۱۶) اور یہ بھی فرمایا کہ ہم اس واسطے تم کو نکالتے ہیں کہ تم لوگوں میں باہمی عداوت ہے اور باہمی عداوت کا یہی نتیجہ ہوتا ہے کہ آخر کچھ قوموں کو نکلنا پڑتا ہے۔سوچو آر یہ ہند میں کس طرح آئے۔مقام تامل اور غور ہے۔اب بھی اگر ناعاقبت اندیشوں کے باعث محرم دوسہرہ وغیرہ کے فسادات ہوتے رہے تو بہت ساروں کو حکم ہو گا پورٹ بلیر چلے جاؤ اور یوں مجبوراً قلنا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُةٌ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ (پورٹ بلیر) مُسْتَقَرٌّ و متاع إلى حين (البقرۃ: ۳۷) کی تعمیل کرنی پڑے گی۔( تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۱۸،۱۱۷) فَازَلَهُمَا الشَّيْطنُ - شیطان کو بھی ایک موقع معلوم ہوا اس نے پھسلانا چاہا۔عَنْهَا۔اس درخت سے۔قرآن مجید میں لکھا ہے کہ نَسِيَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْما (طه:١١٢) کچھ مدت کے بعد آدم حکم الہی کو بھول گئے اور یہ کسی انسان کے لئے موجب تعجب نہیں ہوسکتا۔ہم دیکھتے ہیں کہ آدمی نماز کے لئے بڑے اہتمام کے ساتھ گھر سے آتا ہے وضو کرتا ہے۔پھر پہلی رکعت دوسری سے بالکل مختلف ہے پھر بھی بھول جاتا ہے۔قرآن مجید کی آیات کا بھی یہی حال ہے۔بعض وقت معمولی آیت قرآت کے وقت بھول جاتی ہے۔روزہ رکھا جاتا ہے مگر بھول کر پانی پی لیتے ہیں یہ عجائبات قدرت ہیں۔اَخْرَجَهُمَا۔اللہ نے نکال دیا اس حالت سے جس میں وہ تھے۔پھر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جب بعض تمہارے دشمن بھی ہیں تو تم چوکس رہو۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۸ / فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۹) ابلیس اور شیطان کی اصل جن ہے۔اور ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ جو چیزا اپنی ذات میں بُری اور پر ضر ر ہو وہ تو ابلیس ہے۔اور جس چیز کا ضرر متعدی ہو دوسروں کو بھی دکھ پہنچائے تو وہ شیطان ہے۔چنانچہ پارہ اول رکوع ۴ میں فرماتا ہے۔فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَهُ وَكَانَ مِنَ ا ہم نے کہا چلے جاؤ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور برتاؤ کرنا ہے۔(ناشر) ۲ بھول گیا تھا اور ہم نے اس میں قصد نہ پایا۔