حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 183
حقائق الفرقان ۱۸۳ سُورَةُ الْبَقَرَة ابى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ۔اِس سے ظاہر ہے کہ اول ہی انکار اور کبر ایک ایسی شئے ہے جو کہ فیضانِ الہی کو روک دیتی ہے۔طاعون کے گذشتہ دورہ میں جو الہام حضرت اقدس کو ہو ا تھا اس میں بھی شرط لگی ہوئی تھی کہ اتي أحافظ كُلّ مَن فِي الدَّارِ إِلَّا الَّذِينَ عَلَوْا بِالْإِسْتِكْبَارِ کبر تزکیۂ نفس کی ضد ہے اور دونوں چیزیں ایک جا جمع نہیں ہوسکتیں۔الحکم جلد ۹ نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۹) ص - فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَنُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيْهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُةٌ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعُ إِلَى حِينٍ - ترجمہ۔پھر شیطان نے اُن کو اس درخت کے ذریعہ سے پھسلانا چاہا اور جہاں وہ تھے وہاں سے نکلوا دیا اور ہم نے کہ دیا چونکہ تمہاری آپس میں عداوت ہے (صفائی نہیں ) اس لئے یہاں سے چلے جاؤ اور خالص ملک میں تمہیں رہنا اور فائدہ اٹھانا ہے ایک مدت (یعنی) جئے تک۔تفسیر - فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَنُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِنَا كَانَا فِيهِ (البقرۃ:۳۷) کتاب خازن کی تفسیر میں لکھا ہے۔ازل آئی اِسْتَزَلْ آدَمَ وَحَوْا أَوْ دَعَاهُمَا إِلَى الزَّنْةِ وَهِيَ الْخَطِيئَةُ - " (کتاب التاويل تفسیر خازن تفسير سورة البقرة زير آيت فازلهما الشيطان) غرض آدم علیہ السلام اس ملک سے چل دیئے اور کسی اور زمین میں جا کر آباد ہوئے۔توریت شریف میں لکھا ہے ” خداوند خدا نے آدم علیہ السلام کو لے کے باغ عدن میں رکھا کہ اس کی باغبانی اور نگہبانی کرئے ( پیدائش ۲ باب (۱۵) اور پیدائش ۳ باب ۲۴ آیت میں ہے اس نے آدم کو نکال دیا اور باغ عدن کے پورب کی طرف کرو بیوں کو جو چمکتی تلوار کے ساتھ چاروں طرف پھرتے تھے مقر رکیا۔تو غالباً یہ وہ مکان تھے جہاں قائن جا کر آباد ہوا۔سو قائن خداوند کے حضور سے نکل گیا اور عدن کے اے یعنی میں ہر ایک ایسے انسان کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا جو تیرے گھر میں ہوگا۔مگر وہ لوگ جو تکبر سے اپنے تئیں اونچا کریں۔( تذکرہ۔ایڈیشن چہارم صفحہ ۳۵۰ ) - ( ناشر ) سے ان کو شیطان نے پھسلانا چاہا اور پھر ان کو جہاں وہ تھے وہاں سے نکال دیا۔سے شیطان نے ان دونوں کو پھسلا دیا۔یعنی حضرت آدم اور حواء کو اور ان دونوں کو ذلت یعنی خطاء کی طرف بلایا۔